خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباجنم ورودھی
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

جنم ورودھی

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 24, 2021
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 24, 2021 0 تبصرے 73 مناظر
74

جنم ورودھی

سکھیا اس کی دیوانی تھی۔ وہ ہیر گاتا تو کسی پجارن کی طرح اس کے بولوں میں کھو جاتی۔
قالوا بلٰی دے دینہہ نکاح بدھا روح نبی دی آپ پڑھایا ای
قطب ہو وکیل وچ آ بیٹھا حکم رب نے آن کرایا ای

یوم الست کو جب خدا نے پوچھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں؟ تو مجسم روحوں نے خدا کے سامنے سر جھکا دیا، قالو بلیٰ، شھدنا۔ وہ سکھیا کا بازو پکڑ کر کہتا ”تیرا میرا نکاح بھی اسی دن ہوا تھا۔ تیرا جنم دور دراز کی اس دھرتی پر ہوا جسے میں نے دیکھا بھی نہیں۔ پھر خدا تجھے وارث شاہ تک لے آیا۔ اس دربار کے سائے تلے تجھے دیکھا تو لگا کہ اب مجھ دکھیا کے بھاگ جاگ اٹھے ہیں۔“

ویرو کی ماں نہیں تھی۔ چلنے پھرنے کے قابل ہوا تو باپ اسے دربار پر چھوڑ گیا۔ ادھر ہی پلا بڑھا۔ سکھیا ملی تو دکھوں کا کچھ مداوا ہوا لیکن سکھ تو کاتب تقدیر انسان کی قسمت میں لکھنا بھول ہی گیا ہے۔ وہ تیس برس کی عمر کا گبھرو جوان تھا۔ مضبوط ہاتھ پاؤں کا مالک۔ اب زندگی کو خوشی سے گزارنے کے اوصاف سے مزین بیوی بھی موجود تھی۔ ملک میں وبا پھوٹی، معیشت ڈوب گئی تو بھوک جو ہمیشہ سے اس کے پیٹ میں پل رہی تھی، خوفناک عفریت بن گئی۔ اس کا دل بڑی خواہشات کی آماجگاہ نہیں تھا۔ ہوتا بھی کیسے؟ وہ تو اپنے اور سکھیا کے لیے روٹی کی فکر میں ہی غلطان رہتا تھا۔ سکھیا کے پیٹ میں بچہ بھی پل رہا تھا جس نے بھوک برداشت نہ کرتے ہوئے باپ کی طرح لاحاصل ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے تھے۔

بچپن سے اب تک صرف عرس کے دنوں میں پیٹ بھر کر کھانا نصیب ہوتا تھا۔ ان دنوں کبھی کبھار گھی اور شکر کا مزہ چکھنا بھی نصیب ہو جاتا۔ شادی کے بعد اس نے فیکٹری میں نوکری کر لی تھی۔ وبا کے پھوٹتے ہی یہ نوکری بھی چلی گئی۔ وہ بیروزگار سڑک کنارے پڑا رہتا کبھی کبھار مزدوری مل جاتی تو دونوں کے لیے روزی روٹی کا بندوبست ہو جاتا۔ اکثر خالی دل اور خالی ہاتھ، کندھوں پر تفکرات بھرے سر کا بوجھ اٹھائے واپس گھر آ جاتا۔ سکھیا کے پاس بیٹھ کر ہمیشہ اسے حوصلہ دیتا ”ملکی حالات بہتر ہونے والے ہیں۔ فیکٹریاں چل پڑیں تو مشکلات کا خاتمہ ہو جائے گا۔“

سکھیا پریشان ہو کر کہتی ”پیٹ تو جیسے تیسے بھر ہی لیں گے۔ باقی ضروریات کیسے پوری ہوں گی۔“ رفتہ رفتہ دونوں کی حالت بگڑتی گئی۔ گھر کا سارا سامان بک گیا۔ کھاٹ کھٹولے کے پائے پٹی پھاٹ گئے۔ ان کی مرمت کہاں سے کرواتے؟ برسات کے دن تھے۔ بوریا زمین پر بچھا لیا تو کھٹملوں اور چوہوں نے نیند حرام کر دی۔ ایک دوسرے کو حوصلہ دیتے ساری رات بسر کر لیتے۔ سوئیوں سے ان کی انکھوں کے کونوں میں لکھی ہوئی کہانی پڑھ کر لوگ بھی پریشان ہو جاتے۔

مصیبت اکیلی تو آتی نہیں، ایک کے بعد دوسری بھی چلی آتی ہے۔ مستریوں کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ کمزور پہلے ہی ہو چکا تھا اور دو دن کا بھوکا بھی تھا۔ چکر کھا کر دوسری منزل سے زمین پر آ گرا۔ دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔

لوگ اٹھا کر سرکاری ہسپتال لے گئے۔ سکھیا بھی روتی سسکتی وہاں جا پہنچی۔ ڈاکٹروں نے دونوں ٹانگوں کے ساتھ وزن باندھ کر لٹکا دیں کہ جب تک آپریشن نہیں ہوتا ہلنے جلنے سے درد نہ ہو۔ ہڈیوں کا آپریشن، مریض کی تیاری میں ہی کئی ہفتے لگ جاتے ہیں۔ کمزوری دور کرنے کے لیے ادویات کے ساتھ اچھے کھانے کی بھی ضرورت تھی۔ کھانا سرکاری اور پھر پنکھے کی ٹھنڈی ہوائیں بھی۔ ایک دن سکھیا پاس بیٹھی تھی کہ ویرو نے ابلا ہوا انڈا اس کے ہاتھ میں پکڑایا۔ پوچھنے لگی یہ کہاں سے آیا ہے؟

”ڈاکٹرصاحب نے خوراک اچھی کرنے کا حکم دیا ہے۔ مجھے ایک کی بجائے دو انڈے ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ ایک تمہارے لیے بچا لیا۔“

” ویرو تمہیں اس کی زیادہ ضرورت ہے، تم کھاؤ۔“

”لیکن تمہیں بھی تو ضرورت ہے، کھا لو۔ تمہاری کوکھ میں بچہ پل رہا ہے۔ میں نے روٹی بھی چھپا کر رکھی ہوئی ہے، وہ بھی لے لو۔“

وہ روزانہ اسے کچھ نہ کچھ کھانے کو دیتا۔ ڈاکٹر روز اسے کہتے کہ زیادہ کھایا کرو۔ اردگرد کے مریضوں کو بھی یہ کہتے کہ بچا کھچا کھانا اسے دے دیا کرو۔ جو بھی کھانا آتا وہ سکھیا کے لیے بچا لیتا۔ اب تو اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ کبھی بھی ٹھیک نہ ہو، اسی ہسپتال میں پڑا رہے۔

پھر ایک دن پورا گزر گیا اور سکھیا نہ آئی۔ دوسرا اور تیسرا بھی۔ پھر ہفتہ گزر گیا۔ وہ آئی تو بہت ہی بری حالت میں تھی۔ کمزور اور پیلی پڑی ہوئی۔ اس کی حالت دیکھ کر ویرو اور زیادہ پریشان ہو گیا۔ پوچھنے لگا، ”تجھے کیا ہوا ہے؟“

”فکر نہ کر، جلد ٹھیک ہو جاؤں گی۔ اب میں بھی پیٹ بھر کر کھاتی ہوں۔ میں بھی ہسپتال میں داخل ہو گئی ہوں۔

”کیوں؟“
”میں نے بچہ گرا دیا ہے۔“
”وہ کیوں؟“
”میں بچہ پیدا نہیں کروں گی۔“
”کیوں؟“

”میں اپنا معصوم بچہ اس دکھ بھری دنیا میں نہیں لانا چاہتی۔ جہاں مفلسی پیٹ کی آگ بھڑکاتی ہے، میں اسے اس دوزخ میں نہیں پھینکنا چاہتی۔“

وہ خاموش ہو گیا۔ سب سچ تھا۔ کچھ کہنے کے لیے منہ کھولنا ہی چاہتا تھا کہ سکھیا پھر بولنے لگی۔

”انسان کو بچہ پیدا کرنے سے پہلے اس سے پوچھنا چاہیے کہ وہ اس مصیبت اور دکھ بھری دنیا میں آنا بھی چاہتا ہے یا نہیں؟“

وہ حیران ہو گیا۔ بولا
”جس کا وجود ہی نہیں اس سے کیسے پوچھا جا سکتا ہے؟“

”تم نے ہی تو بتایا ہے کہ روح ہمیشہ سے موجود ہے۔ اس کو وجود ماں کے پیٹ میں ملتا ہے۔ بہت پہلے یوم الست کو یہی روح مجسم خدا کے حضور سجدہ ریز بھی ہوئی تھی۔“

کچھ دیر خاموش رہی پھر افسردہ لہجے میں کہنے لگی،

”میرا اپنے خدا سے یہی گلہ ہے۔ رب العالمین نے اپنی ربوبیت کا اقرار لے لیا۔ اس دن انسان کی با وضاحت رضامندی بھی حاصل کر لینی چاہیے تھی۔ ہمیں بن پوچھے بتائے اشتہا کی جلتی دوزخ میں پھینک دیا گیا۔ اب بھوک، دکھ، بیماری، بڑھاپے اور موت کا شکار بننے کے لیے میں اپنے بچے کی روح کو وجود میں نہیں لانا چاہتی۔“

وہ روتے جا رہی تھی لیکن مطمئن تھی۔

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جوتا مارو سالوں کو
  • سورج اٹھائے ڈھونڈو گے ہم کو گلی گلی
  • مُعاشرتی بِگاڑ
  • محبت کی ریت پر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میں اور تم
پچھلی پوسٹ
کرونا بوسٹر

متعلقہ پوسٹس

بے بسی کا نوحہ

مارچ 27, 2020

یہ ہی چراغ جلینگے تو روشنی ہوگی!

دسمبر 7, 2020

رات کی مسافر

مارچ 24, 2026

عید قرباں:عزت ِ مجبور کو قربان تو نہ کیجیے!

جولائی 31, 2020

لذتِ نفس کی غلام عورت

نومبر 27, 2024

روٹھے کو منانے میں دیر کتنی لگتی ہے

نومبر 11, 2025

دو بَیل

اکتوبر 25, 2019

جنت الحمقاء

جنوری 16, 2026

بیت رہی ہے زندگی اسی انتظار میں

جنوری 23, 2020

چھوٹا ہُوا ہوں غم کے

نومبر 1, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جب سے تشنہ اُس دہلیز سے...

مئی 19, 2020

قلم کی نوک پہ رکھوں گا

جنوری 5, 2025

پاکستان کہاں ہے؟

اپریل 9, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں