خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباپانچویں نسل کی جنگ اور پاکستان!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

پانچویں نسل کی جنگ اور پاکستان!

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 19, 2021
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 19, 2021 0 تبصرے 57 مناظر
58

پانچویں نسل کی جنگ اور پاکستان!

دُنیا گلوبل ویلج بن چکی‘ جہاں ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال نے انسان کو چاند تک پہنچا دِیا‘ تو وہاں ہی ہر شے کے لیے نت نئے طریقے رائج کر دیئے گئے ہیں پرانی تراکیب منظرِ عام سے بالکل ہی غائب ہوتی جا رہی ہیں۔ اگر اس طرح متبادل تراکیب کاتذکرہ کریں تو پہلی مثال جھوٹ کی جگہ ”آلٹر نیٹو ٹرتھ“کی اصطلاح عام ہوچکی ہے۔ اور پھر ہر طرف ففتھ جنریشن کا ذکر ہو رہا ہے‘ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ ہے کیا؟ففتھ جنریشن وار سے پہلے پچھلی جنریشن وارز کا علم ہونا ضروری ہے۔جو چیز تقریبا دس بیس سال بعد آئے اسے جنریشن کہتے ہیں۔جنریشن آف ماڈرن وارفئیر کی تھیوری 80 کی دہائی میں امریکی تجزیہ کاروں نے ایجاد کی جس میں سے ولیم ایس لینڈر کا نام سرفہرست ہے۔ اُنہوں نے جنگوں کو دیکھ کر اس تبدیلی کو مختلف جنریشن میں تقسیم کیا۔
جب جنگوں میں دونوں طرف کے انسان آمنے سامنے رہ کر تلواروں سے لڑا کرتے تھے تو اس کو فرسٹ جنریشن وار کا نام دیا گیا۔ انگلش سول وار (1642–1651) اور امریکہ کی جنگ آزادی (1775–1783) اس کی نمایاں امثال ہیں۔ پھر جب بندوق اور توپیں کی ایجاد ہوئی اور اس کے ذریعے جنگیں لڑی جانے لگیں تو ان جنگوں کو سیکنڈ جنریشن وار کہا جاتا ہے۔ سیکنڈ جنریشن وار کی سب سے بڑی مثال پہلی جنگ عظیم (1914 – 1918) ہے۔ سیکنڈ جنریشن وار کو فرینچ آرمی نے ڈیولپ کیا تھا۔ جب انسان نے ترقی کی راہیں ہموار کی‘ جنگی محاذ پر بھی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوششوں میں مگن رہے۔جب جنگوں میں فضائیہ اور نیوی وغیرہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوئی یا میزائلوں کے ذریعے دور سے دشمن پر وار کرنے کا راستہ نکلا اور ٹیکنالوجی کا استعمال فیصلہ کن کردار ادا کرنے لگا اس طرح کی جنگوں کو تھرڈ جنریشن وار کا نام دیا گیا۔ تھرڈ جنریشن وار کی سب سے بڑی مثالیں دوسری جنگ عظیم (1939 – 1945) اور کوریا وار(1950 – 1953) ہیں۔تھرڈ جنریشن تک جنگیں صرف افواج کے درمیان لڑی جاتی تھیں۔ایک ملک کی فوج کو دوسرے ملک کی افواج کا معلوم ہوتا تھا۔لیکن جوں جوں وقت گزرا جنگی محاذ پر بھی نت نئے تجربات کیے گئے جو کامیاب رہے۔جنگ لڑنے کے لیے ملکی افواج کے ساتھ ساتھ نان اسٹیٹ ایکٹرز کا کردار بھی اہم ہو گیا۔مقامی شرپسند عنصراور پراکسیز کا کردار بھی اہم بن گیا۔ نان اسٹیٹ ایکٹرز کے ساتھ ساتھ سفارت کاری، معیشت اور پروپیگنڈے کے ہتھیار بھی شامل ہوگئے۔اس طرح کی جنگ کو فورتھ جنریشن وار کا نام دیا گیا۔ فورتھ جنریشن وار کی مثال سرد جنگ کی ہے۔
ففتھ جنریشن وار کی اصطلاح ڈیوڈ ایکس نے 2009 میں امریکی میگزین وائرڈ پر اپنے ایک کالم میں دی تھی۔ففتھ جنریشن وار کی تعریف یہ ہے کہ اس میں پوری قوم شریک ہوتی ہے۔اس میں بیٹل یعنی ایک دوسرے کے سامنے لڑنے کی نوبت نہیں آتی۔ ففتھ جنریشن وار میں دشمن اپنے ہارڈ پاور کی بجائے سافٹ پاورز کو استعمال کرتا ہے۔ففتھ جنریشن وار کے بنیادی ہتھیار جہاز‘ٹینک اور میزائل نہیں بلکہ سفارت کاری‘ پراکسیز‘ ٹی وی‘ ریڈیو‘ اخبار‘سوشل میڈیا‘ فلم اور معیشت ہیں۔ہتھیاروں کے بجائے موبائل‘ ٹیب‘ انٹرنیٹ‘ کمپیوٹر‘ لیپ ٹاپ کو اہم ترین ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے‘ یعنی دنیا کی بڑی طاقتیں اپنی جدید جنگیں کمیونیکیشن کے آلات پر لڑرہی ہیں۔ یہ زمین پر نہیں بلکہ ذہنوں میں لڑی جاتی ہے۔ انسانوں کو نہیں بلکہ ان کے ذہنوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ فوجیں بھیجنے کی بجائے زیرنشانہ ملک کے شہریوں کو اپنی ریاست اور فوج کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ ففتھ جنریشن وار ”یہ وہ جنگ ہے جسے جیتنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے لڑا ہی نہ جائے“. ترقی پذیر معاشرے اس لیے کامیاب ہیں کہ وہ برائی جتنی تیزی سے پھلتی ہے، اتنی ہی تیزی سے اس کے خلاف برسر پیکار ہو جاتے ہیں۔
2019ء میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی جس میں کچھ نیوز ایجنسیز‘ میڈیا گروپس‘ شخصیات اور دیگر کے حوالے سے شکوک کا اظہار کیا جاتا ہے۔دسمبر 2020ء میں ایک ایسا بھونچال آیا کہ جس نے عالمی اداروں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ بھارت کا سری واستو گرو‘ پندرہ سال سے جعلی خبروں کا بازار گرم‘مشہور شخصیات کی شناخت کی چوری‘غیر سرکاری تنظیموں کا ناموں کا دھوکا دہی سے استعمال، عالمی اداروں کے ساتھ دھوکا دہی کرنا، بیرونِ ملک مخصوص مفادات کا تحفظ وغیرہ۔”Commission to Study the Organization of Peace“ سی ایس اُو پی“ نامی تنظیم کے نام کا استعمال اس پورے مافیا کو چہرہ بے نقاب کرنے کا باعث بن گیا۔ جو کھیل پندرہ سال سے کھیلا جاتا رہا‘وہ شائد کبھی بھی سامنے نہ آتا، لیکن مکروہ چہرہ رکھنے والے فیصلہ سازوں نے غلطی یہ کر دی کہ ”سی ایس اُو پی“ کے آنجہانی بانی پروفیسر لوئیس کو بھی نہ بخشا۔
پروفیسر لوئیس بھی سوہن 2006ء میں وفات پا چکے ہیں، لیکن ان جعلی خبروں اور میڈیا کا مکروہ کھیل کھیلنے والوں نے انہیں 2007ء کی کانفرنس میں شریک مقرر کے شرکت کروا دی۔ بھانڈا پھوٹ گیا۔ 2005ء سے جاری اس پوری مہم کا مخاطب مکمل طور پر پاکستان تھا۔ پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین تک کو استعمال کیا گیا۔ یورپین پارلیمنٹ کے ممبرز تک استعمال ہوگئے۔ جعلی میڈیا گروپس ترتیب دیے گئے‘جعلی میگزین‘جعلی اخبارات‘جعلی ویب سائیٹس کا استعمال کیا گیا۔اس نیٹ ورک کا روحِ رواں بھارت کا مشہور و معروف ڈیجیٹل میڈیا صحافتی گروپ اے این آئی (ANI) نکلا۔ اخلاقی اقدار کے پست ترین درجے پہ موجود اس نیٹ ورک نے انسانی حقوق کی اہم شخصیت پروفیسر لوئیس بھی سوہن کی جس طرح تذلیل کی، متعلقہ ممالک کو کاروائی یقینی طور پر کرنی چاہیے۔
اس نیٹ ورک نے پندرہ سال سے پوری دُنیا میں بھارت کے مفادات کے تحفظ کے ساتھ ٹیکنالوجی کی دُنیا میں پاکستان مخالف سرگرمیوں کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ دس ایسی غیر سرکاری تنظیمیں جو اپنے آپریشن عرصہ ہوا بند کر چکی تھیں اور وہ اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ تھیں‘ان کا نام دوبارہ استعمال کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ تک رسائی حاصل کرلی گئی۔فیک میڈیا کا ایک جال برسلز اور جنیوا میں پاکستان کے خلاف ترتیب دیا گیا۔ 750 سے زائد جعلی میڈیا آؤٹ لیٹس بنائے گئے۔ یہی نہیں بلکہ سری واستو گروپ‘ اے این آئی اور اس عالمی نیٹ ورک کی جانب سے 550 سے زائد ویب ڈومین رجسٹرڈ کروائے گئے‘ جن میں سے اکثریت پاکستان کے مفادات کو ذِک پہنچانے کے لیے تھے۔ 1970ء میں بند ہو جانے والی تنظیموں کو اچانک 2005ء میں دوبارہ سے کھڑا کر دیا گیا۔ وہ بھی دھوکا دہی اور جعل سازی سے۔اس سائبر وارفیئر کا مقابلہ پاکستان کر رہا ہے اور بخوبی کر رہا ہے‘ لیکن عالمی اداروں کی صلاحیت اور کردار پہ بھی اُٹھنا شروع ہوچکا ہے۔ کیسے ایک جعلی میڈیا گروپ اتنا بڑا نیٹ ورک بنا کے اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین جیسے اہم اداروں تک پہنچ گیا اور پاکستان کے خلاف محاذ بھی کامیابی سے قائم کیااور چلایا؟
جب یہ محسوس کیا گیا کہ تھرڈ اور فورتھ جنریشن وار کے امتزاج کے باوجود پاکستان کو زیر کرنے کے اہداف میں کامیابی کا تناسب تو مایوس کن ہے کیونکہ پاکستان قوم کا اتحاد ویکجہتی ہی روکاٹ ہے‘تو ففتھ جنریشن وار متعارف کروا دی گئی جو کہ میڈیا اور سائبر ورلڈ کی جنگ ہے۔ وہ جنگ جس میں میدانِ جنگ واضح نہیں اور نہ ہی دشمن دوبدو ہوتا ہے بلکہ اسکا مورچہ سوشل میڈیا اور ہتھیار افواہیں‘ پروپیگنڈا‘ مین سٹریم میڈیا‘ پرنٹ میڈیا میوزک‘ فلمز‘ڈاکومینٹریز‘ یوٹیوب ویڈیوز، ٹوئیٹر وغیرہ ہیں۔ ففتھ جنریشن وار کا ٹارگٹ یہ ٹھہرا کہ ملک کی عمارت جن عقائد ونظریات پر استوار ہے اس کو شکوک و شبہات سے کھوکھلا کر دیا جائے‘بانیانِ پاکستان کے خلاف طعن و تشنیع کا اِک محاذ کھول دیا جائے‘ پاکستانی فوج سے عوام کو متنفر کر دیا جائے کہ ہمارے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ فوج اور عوام میں اتنی خلیج بڑھا دی جائے کہ ذہنی ہم آہنگی کا سوال ہی پیدا نہ ہو۔ عوام میں بیزاری‘ مایوسی‘ ڈپریشن پھیلائی جائے۔ہمیں ایسے میں وقت کے ساتھ خود کو بدلنا ہو گا‘اس خطرناک جنگ کے لئے شہریوں میں ہائبرڈ جنگ سے متعلق آگہی پھیلانی ضروری ہے تاکہ قومی سلامتی سے متعلق امور میں شہری ریاست کے لئے مددگار ثابت ہوں اور اس سے ملک کے اندرونی دفاع کو مضبوط کیا جاسکے۔ دشمن کی لاکھ کوشش کے باوجود ناکامی ہو گی اور پاکستان تاقیامت قائم رہے گا‘ ان شاء اللہ۔

 

عابد ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • شعر لکھے نہ قافیہ لایا
  • منافقت کی سنَد ہے ہمارے یار کے پاس
  • وقت گزرتا جا رہا ہے
  • غزل گائیکی کی 110 سال کی ہوشربا داستان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کورونا ویکسین – دو سال زندگی کی ضمانت
پچھلی پوسٹ
سورۃ فاتحہ کے اسماء

متعلقہ پوسٹس

یہ کچھ یادوں کے آنسو ہیں دِل پگھلانے والے!

نومبر 18, 2021

کھلی ہے آنکھ حقیقت کی انتقال کے بعد

نومبر 18, 2020

حُسن کو حسن نظر کہتے ہیں لوگ

جنوری 4, 2023

کون کہتا ہے کی نفرت کو سدا دی جائے

اپریل 6, 2020

یوں خبر کسے تھی میری تری مخبری سے پہلے

مئی 2, 2020

وہ آنکھ جس کو گہر کی تلاش رہتی ہے

دسمبر 15, 2019

یہ کارِ خیر ہے،اسکو نہ کارِ بد سمجھو

مئی 4, 2020

ایران – امریکہ تعلقات کا تاریخی پس منظر

اپریل 26, 2026

وہ دیکھو دسمبر آ چکا ہے

دسمبر 3, 2020

ہجرلازم ہے اب زندگی کے لیے

مئی 20, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

قیدِ موجود و میسر میں نہیں...

دسمبر 15, 2019

کام

جنوری 10, 2021

خط اور اُس کا جواب

فروری 1, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں