خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباٍ بے عمل ٹرینر
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریر

ٍ بے عمل ٹرینر

از محمد سرفراز جولائی 21, 2020
از محمد سرفراز جولائی 21, 2020 0 تبصرے 57 مناظر
58

ٍ بے عمل ٹرینر

پنجاب یونیورسٹی کے قریب مولانا شوکت علی روڈ پر طلبہ و طالبات کا ہجوم جمع تھا۔طلبہ ایک دوسرے کو کراس کرتے ہوئے آگے جانے کی کوشش کررہے تھے۔ہر ایک کی خواہش تھی کہ وہ پہلے اگلی سیٹوں کی بکنگ کروا لے،رش اتنا تھا کہ پاوں رکھنے کی جگہ نہ تھی۔مہنگائی کے اس دور میں ہر ایک طالبعلم تین ہزار روپے پکڑے لائن میں لگے ہوئے تھے اور اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔دراصل ایک موٹیویشنل ٹرینر کا ایک پروگرام تھا جس کے پروگرام کا عنوان تھا,,اخلاقیات اور ہمارا معاشرہ،،اگلے ہفتے یہ پروگرام تھا اس لئے نوجوان ایڈوانس میں بکنگ کرارہے تھے تاکہ بعد میں پریشانی کا سبب نہ بنے۔
پروگرام جناح ہسپتال کے قریب ایک خوبصورت عالیشان گھر میں تھا،گھر بہت بڑا صاف ستھرا، کمرے،گراسی پلاٹ اور ایک صحن،باغ کی طرح خوبصورت پھول بھی تھے،گویا گھر محل کی عکاسی کررہا تھا۔ہفتہ کا دن تھا لوگ پروگرام کے لئے اس گھر کی طرف سے آرہے تھے۔اس گھر سے پہلے گلی کے قریب ایک یو ٹرن ہے جہاں پر چوک بھی ہے وہاں ایک ضعیف العمر خاتون چوک کے درمیان گھاس والی جگہ پر بیٹھی ہوتی تھی، تمام لوگ جو آنے جانے والے سیکروں لوگ اس کو دیکھ کر گزر جاتے تھے۔
کوئی شخص اس خاتون کی طرف دھیان بھی نہ دیتا تھا۔وہ خاتون بھیک مانگنے والی بھی نہیں تھی،یہ چوک اس کے لئے گھر تھا جہاں وہ روز بیٹھتی تھی،رات کو گھاس پر سو جاتی تھی اور دن کو چوک پر دیوار کے سائے میں بیٹھی رہتی تھی،پروگرام میں شرکت کرنے والے طلبہ و طالبات اسی راستے سے گزر کر جارہے تھے۔کسی ایک شخص کو احساس نہ ہوا کہ کسی کی ماں،بہن،بیٹی،معاشرے کی ایک بے سہارا ضعیف العمر خاتون یہاں بے سروسامانی کی حالت میں بیٹھی تھی اس سے حال احوال پوچھا جائے۔
تمام لوگ ٹرینر کے بتائے ہوئے ایڈریس پر پہنچ چکے تھے۔حال مکمل بھرا ہوا تھا۔تمام لوگ ٹرینر کے آنے کا انتظار کررہے تھے۔ہر کوئی اپنی سیٹ پر براجمان تھا۔کاغذ اور قلم سب کے ہاتھ میں تھا۔
اچانک ہال کے عقبی دروازے سے ایک دراز قد ٹرینر کی آمد ہوئی جسے دیکھ کر تمام لوگ کھڑے ہوگئے اور تالیوں کی گونج سنائی دینے لگی۔تمام لوگ بیٹھ گئے۔ٹرینر نے تمام لوگوں کو خوش آمدید کہا اور اپنے لیکچر کا آغاز کر دیا ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ لیکچر کے دوران ایک خاتون جو چوک پر بیٹھی تھی نمودار ہوئی اس کو دیکھتے ہی ٹرینر کے چہرے کا رنگ زرد پڑگیا۔
ٹرینر کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اس کے ملازم نے اس خاتون کو دھکے دے کر باہر نکال دیا۔سامعین اس عمل پر حیران ہوئے کہ یہ بزرگ خاتون یہاں کیوں آئی تھی۔ ٹرینر نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج کل معاشرے میں خون سفید ہوگئے ہیں۔لوگوں کو اپنے رشتوں کا احترام نہیں ہے۔معاشرے میں نفسا نفسی کا عالم ہے۔کوئی کسی کے دکھ درد میں شریک نہیں ہوتا۔مصیبت میں کوئی کام نہیں آتا۔ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے۔والدین کی خدمت نہیں کرتے اولاد کی صحیح تربیت نہیں کرتے ۔فحاشی اور بے حیائی کی روک تھا م نہیں کرتے۔
اپنی اولاد،اپنے طلبہ کو اخلاقیات نہیں سکھاتے بلکہ صرف کتابیں رٹواتے ہیں۔
لیکچر ختم ہوا تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا،ہر ایک طالبعلم نوجوان اس کے ساتھ سیلفی لے کر خوشی کا اظہار کررہے تھے۔تمام طلبہ ہال سے نکل کر اس بڑ ھی خاتون کی طرف بڑھنے لگے۔ہر اک طالبعلم نے دل میں سوچ لیا تھا کہ پروگرام کے بعد اس خاتون کے پاس ضرور جائے گا۔یہ ایک اتفاق تھا کہ تمام طلبہ خاتون کے پاس جمع ہوگئے اور سارے طلبہ آتے ہی خاتون کے قریب بیٹھ گئے تاکہ اس کی کہانی سن سکیں اس کی داد رسی کی جائے حوصلہ افزائی کی جائے۔اچانک ایک لڑکی آگے بڑھی اور اس خاتون کو اٹھایا جو گھاس پر سورہی تھی اور سر پر دوپٹہ رکھے آنسو بہا رہی تھی۔لرکی نے اس کو اٹھایا،بٹھایا پانی پلایا اور سوال کرنے لگی۔
اماں جی!آپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں؟آپ کا کوئی گھر،اولاد،رشتہ دار،جاننے وال کوئی نہیں ہے؟
لڑکی نے خاتون کو کندھوں کا سہارا دیتے ہوئے کہا۔
,,میری بیٹی!اس دنیا میں سب کچھ ہے،گھر بھی ہے،اولاد بھی ہے،رشتہدار بھی ہیں مگر دل مییں ان کے پاس میرے لئے جگہ نہیں ہے۔خاتون نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
اماں جی!آپ کھانا کہاں سے کھاتی ہیں؟لڑکی نے دوسرا سوال کیا
بیٹی!یہاں روز بیٹھتی ہوں عوام بھیک والی سمجھ کر پیسے رکھ دیتے ہیں،ان کو جمع کرکے کھانا لیکر کچھ کھا لیتی ہوں اور رب کا شکر ادا کرتی ہوں۔
اماں جی: یہ رقم رکھ لیں کھانے پینے کے کام آئے گی۔ایک نوجوان نے رقم آگے برھاتے ہوئے کہا
نہیں بیٹا مجھے اس عمر میں دولت کی ضرورت نہیں ہے۔بوڑھی خاتون نے رقم واپس کرتے ہوئے کہا
اماں جی کچھ دیر پہلے آپ ایک گھر میں،ہال میں تشریف لائیں تھی اگر آپ کو کھانا،رقم کی ضرورت نہیں تو وہاں کس مقصد کے لئے آئیں تھیں؟ایک اور لرکے نے سوال کیا جس پر سب بے چینی سے خاتون کا جواب سننے لگ گئے۔
یہ سن کر خاتون کی آنکھوں میں آنسو آگئے،بیٹا یہاں ہر روز بیٹھتی ہوں،ٹھنڈی ہوا،اور چھاوں ہوتی ہے مگر آج معمول سے زیادہ گرمی ہے اور ہوا بھی نہیں چل رہی،دھوپ تیز تھی،پسینہ آرہا تھا،دل گھبرا رہا تھا۔سوچا بیٹے کے گھر چلی جاتی ہوں اور کچھ دیر اے سی پر بیٹھ جاوں تاکہ گرمی کی شدت کم ہوجائے اور میرے بیٹے کے دل میں شائد رحم آگیا ہو،اماں جی نے مایوس کن لہجے میں جواب دیا
اماں جی یہ ٹرینر آپ کا بیٹا ہے؟لڑکی نے سوال کیا
ہاں میری بیٹی یہ میرا بیٹا ہے۔سامعین کے دل کو یہ سن کر بڑا جھٹکا لگا،اور حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگ گئے
سب کے سامنے اس ٹرینیر کی تقریر گھومنے لگی
اماں جی نے مزید بتایا کہ میرا بیٹا لندن سے ڈگری حاصل کرکے آیا ہے اور وہاں سے شادی کرکے آیا ہے۔یہاں میں اپنی بیٹی کے پاس رہتی تھی وہ ایک حادثہ میں دنیا سے رخصت ہوگئی پھر میں بیٹے کے گھر آئی تو اس کی بیوی نے مجھے گھر سے نکال دیا اور میرا بیٹا بھی کچھ نہ بول سکا۔اس دن سے دن رات یہاں گزار رہی ہوں اور زندگی کے بقیہ ایام بھی گزر جائیں گے۔
اماں جی آپ ہمارے گھر چلیں ہم آپ کی خدمت بھی کریں گے،گھر بھی دیں گے خیال بھی رکھیں گے۔
ایک لرکی نے آفر دیتے ہوئے کہا
نہیں میری بیٹی اللہ تجھے خوش رکھے،اللہ تجھے کامیاب کرے، مجھے بہت سے لوگوں نے کہا کہ تجھے اپنے گھر لے جائیں مگر میں اپنے بیٹے سے دور نہیں ہوناچاہتی، وہ ہر روز گھر سے نکلتا ہے تو اس کو دیکھتی ہوں تو مجھے سکون ملتا ہے کہ میرا بیٹا سلامت ہے۔خاتون کی بات سن کر سب طلبہ پر سکتہ طاری ہوگیا اورسب کی آنکھوں میں آنسوآگئے۔
سب طلبہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس کا کیا حل نکالا جائے؟سب طلبہ نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا
ہم سوشل میڈیا پر ,,عبرت ناک کہانیِ،، کے نام سے ایک مہم چلاتے ہیں۔ایک لڑکی نے رائے دیتے ہوئے کہا
ہاں یہ ٹھیک ہے۔تمام طلبہ نے متفق ہوکر کہا
تمام طلبہ نے اپنی بنائی ہوئی تصاویر (سیلفی)ہیش ٹیگ کے ساتھ عبرت ناک کہانی کی تفصیل سوشل میڈیا پر اپلوڈ کردی۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ مہم زور پکڑ گئی۔سوشل میڈیا سے اخبارات اور ٹی وی چینل پر چلی گئی۔
ٹرینر کی بیوی نے گھر کے کام سے فارغ ہو کر جب ٹی وی کا بٹن آن کیا تو خبر سن کر اس کے ہوش اڑ گئے فورا اس نے شوہر کے دفتر فون کیا کہ کیا تم نے خبر سنی ہے َ؟شوہر نے کہا۔نہیں کیا ہوا؟اس نے اس کو خبر سے آگاہ کیا۔دفتر کے ملازمیں یہ خبر پہلے ہی سن چکے تھے۔اور جیسے ہی ٹرینر اپنے دفتر سے باہر نکلا تو تمام ملازمین اس کے آفس کے باہر جمع تھے وہ یہ سب دیکھ کر حیران رہ گیا۔وہ ایک لمحہ کے لئے رکا پھر کچھ سوچ کر آنکھیں نیچے کرکے دفتر سے گھر کی طرف نکل آیا۔
اس سے پہلے میڈیا ٹرینر کی والدہ تک پہنچتا وہ اس کو کار میں بٹھا کر گھر لے آیا۔جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوا اور اس کی ماں کو اس کے ساتھ دیکھا تو غصہ سے سٹپٹا گئی اور بڑ بڑ کرتے ہوئے گھر سے سامان اٹھا کر چلی گئی۔
اس نے گھر میں ماں کو نہلایا، دھلایا، صاف کپڑے دئیے،کھانا کھلایا اور اے سی روم میں بیڈ پر لٹا دیا۔اور اپنی ماں سے معافی مانگنے لگ گیا کہ وہ شیطان کے بہکاوے میں آکر اور بیوی کا ساتھ دے کر نافرمان ہوگیا تھا۔اس نے توبہ کی اور آئیندہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ کیا۔
ماں نے اپنے بیٹے کو گلے لگا لیا دونوں کو دلی سکون نصیب ہوا۔ٹرینر بستر پر ٹھنڈی آہیں لے رہا تھا کہ اچانک دروازے پر بیل بجی وہ اٹھ کر گیا تو دیکھا سامنے میڈیا والے بریکنگ نیوز دینے کے انتظار میں تھے اور اس کی والدہ کو لائیو دکھانا چاہتے تھے۔اس سے پہلے کہ میڈیا اس کی والدہ کو ٹی وی سکرین پر دکھائے اس نے پریس کانفرنس شروع کر دی اور ناظرین کو پیغام دیا کہ میں نافرمان ہوگیا تھا میرے دل ودماغ سے والدین کا احترام نکل چکا تھا۔اللہ نے مجھے ہیرو سے زیرو بنا دیا،اللہ نے مجھے دنیا میں سزا دے دی۔خدارا آپ سے درخواست ہے کہ والدین کا احترام کریں۔ان کی خدمت کریں۔
اس نے سب کے سامنے معافی مانگی گھر کے اندر ڈاخل ہوگیا اور والدہ کی خدمت کرنے لگ گیا۔
محترم قارئین!
حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
,,تباہ وبرباد ہو،تباہ و برباد ہو،تباہ و برباد ہو ِ،، تین دفعہ فرمایا صحابہ نے پوچھا!کون؟اللہ کے رسولﷺ
آپ ﷺ نے فرمایا وہ شخص جو اپنی زندگی میں والدین کو پائے اور خدمت کرکے جنت حاصل نہ کر سکے۔(بخاری)

محمد سرفراز اجمل

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سمندر چُپ نہیں رہتے
  • اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے
  • اے دوست ذرا دیکھ لے بے لوح قلم بھی
  • انور مقصود کی بے تکی شاعری
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
محمد سرفراز

اگلی پوسٹ
بدگمانی سے بچو 
پچھلی پوسٹ
پرندوں کا شکوہ

متعلقہ پوسٹس

قومی ذمہ داریوں کے تقاضے اور ہم آہنگی

فروری 17, 2026

عاشق ہزار ہوں مگر

جون 24, 2025

انسانیت کا سودا

ستمبر 9, 2025

آن زبان اور جان

مئی 21, 2020

کچھ بتائیں دل کا شیشہ

نومبر 19, 2025

اور بنسری بجتی رہی

جون 14, 2020

آہ بیکس

مارچ 10, 2019

بے حیائی پھیلانے میں میڈیاکا کردار

دسمبر 28, 2021

آنکھ سے دور جائیے

نومبر 1, 2025

رخصت

دسمبر 13, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سو جہاں اور بھی ہیں

فروری 26, 2025

جگر کو خون کئے دل کو...

مئی 2, 2020

نیندوں کو جب خواب میں جوتا...

جنوری 11, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں