خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابچوں پر تشدد ایک معاشرتی المیہ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزمنزّہ سیّد

بچوں پر تشدد ایک معاشرتی المیہ

از سائیٹ ایڈمن جون 19, 2020
از سائیٹ ایڈمن جون 19, 2020 0 تبصرے 40 مناظر
41

بچوں پر تشدد ایک معاشرتی المیہ

ربِ کائنات نے جہاں اس زمین کو بیشمار رنگوں اور روشنیوں سے سجایا وہیں بنی نوع انسان کے ساتھ تمام جانداروں کی نسل کو بڑھانے کے لئے ننھے بچوں کے اس دنیا میں آنے کا نظام قائم کیا۔چھوٹے بچوں کو کسی بھی گھر کی رونق تصور کیا جاتا ہے۔جس گھر میں بچوں کی قلقاریاں گونجتی ہیں اُسے خوش قسمت قرار دیا جاتا ہے۔بچہ اپنا ہو یا کسی اور کا،ہر انسان کو بچوں پر بے ساختہ پیار آتا ہے بلکہ شفقت اور محبت کے حوالے سے بزرگوں سے سنتے آ رہے ہیں کہ”بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔۔”اس لئے پہلے وقتوں میں اور آج بھی بہت سے گلی محلوں میں بڑوں کی آپس میں ناراضی یا جھگڑا ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے بچوں سے ہمیشہ اپنائیت اور شفقت کا رویہ روا رکھا جاتا تھا اور رکھا جاتا ہے اور ایک دوسرے کے بچوں کے ساتھ کبھی دشمنی کرنے کا خیال تک بھی کسی کو نہیں آتا تھا۔بے شک ہمارے نبی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بچوں پر خصوصی شفقت فرمایا کرتے تھے۔اسی لئے ہماری معاشرتی اقدار کی اصل پہچان بھی یہی محبت ،خلوص اور رواداری ہے۔مگر آئے روز اخبارات اور سوشل میڈیا پر بچوں پر تشدد کے واقعات کی خبریں اور وڈیوز دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ذہن اس سوال کا جواب نہ پا کر ماؤف ہونے لگتا ہے کہ یہ ہمارے اردگرد کیا ہو رہا ہے، ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے۔۔؟کون لوگ ہیں جو معصوم پھولوں کو ذرا سی شرارت پر مارمار کر موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ایسے لوگ حقیقتا ًدرندے ہیں یا غصے کے وقت ان کے اندر کا بھیڑیا ان کی انسانیت اور شفقت ِپدری کو گہری نیند سلا کر ظلم و سفاکیت کی وہ داستان رقم کرتا ہے کہ جسے سن کر ہر رحم دل انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

چند دن پہلے ایک درندے نے چھوٹی سی بچی کو محض اس لئے تشدد کر کے جان سے مار ڈالا کہ اس بچی نے پنجرہ کھول کر طوطے اڑا دیئے۔ایک غبارے بیچنے والے بچے پر غبارہ مہنگا دینے کی پاداش میں امیر زادوں نے کتے چھوڑ دیئے ۔اس سے پہلے ایک شخص کی وڈیو سامنے آئی جو چھوٹے چھوٹے بچوں کو الٹا لٹکا کربُری طرح پیٹ رہا تھا اور میکے گئی ہوئی ماں کے پیچھے انہیں ننھیال جانے سے منع کر رہا تھا۔بہت سے واقعات ایسے بھی سامنے آئے کہ غربت اور بھوک سے تنگ آ کر ماں یا باپ نے اپنے ہی جگر گوشوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔سکولوں اور مدارس میں، ہوٹلوں اور سڑکوں پر مزدوری کرنے والے کم عمر بچوں اور گھروں میں کام کرنے والے بچوں بچیوں کے ساتھ ایسے ایسے جنسی و جسمانی تشدد کے واقعات سامنے آئے کہ جنھیں دیکھ کر انسانیت بھی شرما جائے۔اِن تمام واقعات کو صفحہِ قرطاس پر اتارتے ہوئے روحانی تکلیف سے رونگٹے کھڑے ہو رہے ہیں ،کلیجہ منہ کو آ رہا ہے،مگر ایک سوال ہے جو ذہن پر بار بار دستک دیتا ہے کہ معصوم بچوں پر تشدد غربت سے پیدا ہونے والے مسائل کا رد عمل ہے،جہالت کا نتیجہ ہے،خوفِ خدا کی عدم موجودگی،قانون کی بالا دستی کا فقدان، فرسٹریشن ہے یا اپنے سے طاقتور کا دبا ہوا غصہ اپنے سے کمزور پر نکالنے کا عمل ہے۔۔؟

کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ اچھے بھلے انسان کا ایک دم ظالم درندے کا روپ دھار لینا انسانی جبلت کا حصہ ہے یا ذہنی دبا ؤکا نتیجہ ۔۔مگر ایک بات تو طے ہے کہ کوئی بھی انسان پیدائشی طور پر بُرا نہیں ہوتا۔اُسے ارد گرد کا ماحول اور معاشرتی سختی اور نا ہمواریاںبُرا بننے پر مجبور کرتی ہیں اور پھر وہ اپنے ساتھ گزرے تلخ رویوں اور واقعات کا انتقام پورے معاشرے سے لینے کے درپے ہو جاتا ہے جس کے لئے اس کا آسان ترین ہدف بچے ہوتے ہیں ،جوخود کو اس کے ظلم سے بچا سکتے ہیں اور نہ ہی ظالم کا ہاتھ پکڑ کراس ظلم کو روکنے کے قابل ہوتے ہیں۔

اِن سب پُرتشدد واقعات کے پیچھے وجہ جو بھی ہو مگر قابلِ غور بات یہ ہے کہ جنسی یا جسمانی تشدد کا شکار ہونے والے بچے بڑے ہو کر معاشرے کے لئے مفید شہری بن سکیں گے یا اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے رد عمل کے طور پر مجرم بن کر سب سے انتقام لیتے رہیں گے ؟ ایسے ظالمانہ واقعات پر کب تک قانون خاموش رہے گا؟کب تک وطنِ عزیز کے بچے کیڑے مکوڑوں کی طرح دوسروں کے ظلم کاشکار بنتے رہیں گے؟ کب اس ملک میں بچوں کے حقوق کو تسلیم کیا جائے گا۔۔۔؟ کب ایسا قانون بنایا جائے گا کہ دیگر ممالک کی طرح بچے تشدد سے بچنے یا تشدد کے بعد ایک فون کال کر کے قانون کو مدد کے لئے بلا سکیں۔۔آخرکب تک ہم ایسی وڈیوز دیکھ کر بے بسی سے کڑھتے رہیں گے؟کب تک مجرموں کو چند ٹکے رشوت کے لے کر چھوڑ دیا جاتا رہے گا؟کب تک وطنِ عزیز میں قانون کی بالا دستی قائم نہیں ہو گی؟

شاید ان تمام سوالات کے جوابات ہم میں سے کسی کے پاس بھی نہیں ہیں۔

التجا ہے تو صرف یہ کہ حکومتِ پاکستان اس نازک مسئلے پر بھرپور توجہ دیتے ہوئے قانون سازی کرے اور اس قانون کے نفاذ سے غفلت برتنے والوں کو عبرت ناک سزائیں دے کر وطنِ عزیز کے بچوں کو مجرم بننے سے بچائیں۔اوراس کے ساتھ ساتھ تمام سکولوں میں پرائمری سے مڈل یا میٹرک تک نصاب میں عدم تشدد یا امن و آشتی کے لازمی مضمون کااضافہ کیا جائے جس میں طلبا کو دوسروں کے ساتھ مار پیٹ کی مذہبی و قانونی سزاؤں کو ذہن نشین کروایا جائے،شاید اسی طریقے سے ہمارا معاشرہ پر امن اور تشدد سے پاک ہو سکے اور ہماری آنے والی نسلیں انسانیت کی شیدائی بن سکیں..اللہ پاک دنیا کے تمام بچوں کو ہر قسم کے ظلم و ستم اور دست درازی سے محفوظ رکھے۔آمین

منزہ سیّد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • امن
  • یہ دن بھی دیکھنا تھا
  • یاد کی دسترس میں رہتی ھوں
  • باعث آزار ہو جاتے ہیں لوگ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
حوادث ہم سفر اپنے تلاطم ہم عناں اپنا
پچھلی پوسٹ
یہاں چراغ مقابل ہَوا کے بات کریں

متعلقہ پوسٹس

میں نے پوچھا کیسی لگتی ہے

فروری 21, 2021

والد صاحب

فروری 15, 2020

نہیں کہ عکس ادھورا ہی

نومبر 4, 2025

اس کی ادا ادا میں جو سامان برق تھا

اکتوبر 11, 2025

خونی تھوک

نومبر 22, 2019

میر صاحب کا زندہ عجائب گھر

مئی 27, 2024

اشرافیہ کی ضد، اُردو زبان کی قربانی

ستمبر 8, 2025

بدلتا ہوا شاہی محلہ اور بدلتے کردار

اپریل 16, 2020

خود فریبی ہے کہ انجام بدل لیتے ہیں

اکتوبر 25, 2025

عکسِ خاموشی

فروری 8, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بُرقعے

ستمبر 24, 2013

بانو قدسیہ

دسمبر 2, 2020

بے باکیوں پہ شیخ ہماری نہ...

جون 3, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں