103
پاوں سنبھلے ہیں تو گل پوش بھی یاد آتا ہے
پارسائی میں بلا نوش بھی یاد آتا ہے
پہلے وقتوں کے اداکار بہت اچھے تھے
مجھے درپن نہیں سنتوش بھی یاد آتا ہے
بھوک کا مارا ہوا ریچھ بھی گزرا دل سے
چھپ کے بیٹھا ہوا خرگوش بھی یاد آتا ہے
وقت کی ریشمیں بانہیں بھی کہاں بھولیں گی
وقت کا کھردرا آغوش بھی یاد آتا ہے
یاد ہے جوتیاں رگڑیں تھیں انہی سڑکوں پر
خوں میں تر حلقہ ء پاپوش بھی یاد آتا ہے
یعنی ان دونوں کی تاثیر مجھے کھینچتی ہے
فیض کو یاد کروں جوش بھی یاد آتا ہے
عاطف کمال رانا
