105
شاید تمھیں ہو راس یہ خوشبو ہوا یہ رات
لے کر چلا بھی جا اب اپنی اُٹھا یہ رات
شوقِ جنوں کی شاخ سے جگنو سمیٹ لے
چل چاند کی زمین پہ چل کے بنا یہ رات
ہر اک جگہ فصیل غمِ جاں کو کاٹ دے
دیپک ہوا کےہاتھ پہ رکھ کے جلا یہ رات
دامن میں اختیار کے شیشے کو توڑ دے
آنکھوں کی پور پور میں لا کر دکھا یہ رات
شبنم اُٹھا لے لا کسی بادل کی کوکھ سے
بارش کی بوند بوند میں لا کر سجا یہ رات
پھر وادی گداز میں رہنے کا عزم کر
پھر میکدے کی آنکھ سے ایسےچرا یہ رات
ثمینہ گُل
