خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ احمد ندیم قاسمیبابا نور
احمد ندیم قاسمیاردو افسانےاردو تحاریر

بابا نور

ایک افسانہ از احمد ندیم قاسمی

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 29, 2019
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 29, 2019 0 تبصرے 585 مناظر
586

بابا نور
’’کہاں چلے بابانور؟‘‘ایک بچے نے پوچھا۔ ’’بس بھئی،یہیں ذرا ڈاک خانے تک۔‘‘بابا نور بڑی ذمے دارانہ سنجیدگی سے جواب دے کر آگے نکل گیا اور سب بچے کھلکھلاکر ہنس پڑے ۔ صرف مولوی قدرت اللہ چپ چاپ کھڑا بابا نور کو دیکھتا رہا۔ پھر وہ بولا’’ہنسو نہیں بچو۔ ایسی باتوں پر ہنسانہیں کرتے ۔ اللہ تعالی کی ذات بے پروا ہے۔‘‘

بچے خاموش ہو گئے اور جب مولوی قدرت اللہ چلا گیا، تو ایک بار پھر سب کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ بابا نور نے مسجد کی محراب کے پاس رُک کر جوتا اتارا ننگے پاؤں آگے بڑھ کر محراب پر دونوں ہاتھ رکھے اسے ہونٹوں سے چوما، پھر اسے باری باری دونوں آنکھوں سے لگایا، الٹے قدموں واپس ہو کر جوتے پہنے اور جانے لگا۔ بچے یوں اِدھر اُدھر کی گلیوں میں کھسکنے لگے جیسے ایک دوسرے سے شرما رہے ہوں۔

بابا نور کا سارا لباس دھلے ہوئے سفید کھدر کا تھا۔ سر پر کھدر کی ٹوپی جو سر کے بالوں کی سفیدی سے گردن تک چڑھی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ اس کی سفید ڈاڑھی کے بال تازہ تازہ کنگھی کی وجہ سے خاص ترتیب سے سینے پر پھیلے ہوئے تھے۔گورے رنگ میں زردی نمایاں تھی ،چھوٹی چھوٹی آنکھوں کی پتلیاں اتنی سیاہ تھیں کہ بالکل مصنوعی معلوم ہوتیں۔ لباس ،بالوں اور جلد کی اتنی بہت سی سفیدی میں یہ دو کالے بھونرا نقطے بہت اجنبی سے لگتے۔ لیکن یہی اجنبیت بابا نور کے چہرے پر بچپنے کی سی کیفیت طاری رکھتی تھی۔اس کے کندھے پر سفید کھدر کا ایک رومال تھا جو لوگوں کے ہجوم سے لے کر مسجد کی محراب تک تین چار بار کندھا بدل چکا تھا۔

’’ڈاک خانے چلے بابا نور؟‘‘ دکان کے دروازے پر کھڑے ایک نوجوان نے پوچھا۔ ’’ہاں بیٹا، جیتے رہو۔‘‘ بابا نور نے جواب دیا۔ قریب ہی ایک بچہ کھڑا تھا۔ تڑاک سے تالی بجا کر چلایا’’ آہاہا ،بابا نور ڈاک خانے چلا۔‘‘ ’’بھاگ جا یہاں سے ۔‘‘نوجوان نے بچے کو گھُرکا۔ اوربابا نور جو کچھ دور گیا تھا ،پلٹ کر بولا’’ڈانٹ کیوں رہے ہو بچے کو ۔ٹھیک ہی تو کہتا ہے ۔ڈاک خانے ہی تو جا رہا ہوں۔‘‘ دور دور سے دوڑ دوڑ کر آتے ہوئے بچے بے اختیار ہنسنے لگے اور بابا نور کے پیچھے ایک جلوس مرتب ہونے لگا، مگر آس پاس سے نوجوان لپک کر آئے اور بچوں کو گلیوں میں بکھیر دیا۔

بابا نور اب گاؤں سے نکل کر کھیتو ں میں پہنچ گیا تھا۔ پگڈنڈی مینڈمینڈ جاتی ہوئی اچانک ہرے بھرے کھیتوں میں اترتی، تو بابا نور کی رفتار میں بہت کمی آجاتی۔ وہ گندم کے نازک پودوں سے پاؤں ،ہاتھ اور چولے کا دامن بچاتا ہوا چلتا۔ اگر کسی مسافر کی بے احتیاطی سے کوئی پودا پگڈنڈی کے آر پار کٹا ہوا ملتا، تو بابا نور اسے اٹھا کر دوسرے پودوں کے سینے سے لپٹا دیتا اور جس جگہ سے پودے نے خم کھایا تھا، اسے کچھ یوں چھوتا جیسے زخم سہلا رہا ہے ۔پھر وہ کھیت کی مینڈ پر پہنچ کرتیز تیز چلنے لگتا۔

چار کسان پگڈنڈی پر بیٹھے حقے کے کش لگا رہے تھے ۔ایک لڑکی گندم کے پودوں کے درمیان سے کچھ اس صفائی سے درانتی سے گھاس کاٹتی پھر رہی تھی کہ مجال ہے جو کسی پودے پر خراش آجائے۔ بابا نور ذرا سا رک کر لڑکی کو دیکھنے لگا۔وہ گھاس کی دستی کاٹ کے ہاتھ پیچھے لے جاتی۔ گھاس پیٹھ پر لٹکی گٹھڑی میں ڈال پھر درانتی چلانے لگتی۔ ’’بھئی کمال ہے۔‘‘بابا نور نے دور ہی سے کسانوں کو مخاطب کیا ۔’’یہ لڑکی تو بالکل مداری ہے۔ اتنی لمبی درانتی چلارہی ہے ۔چپے چپے پر گندم کا پودا اگ رہا ہے۔لیکن درانتی گھاس کاٹ لیتی ہے اور گندم کو چھوتی تک نہیں ۔ یہ کس کی بیٹی ہی۔؟‘‘

’’تو کس کی بیٹی ہے بیٹا؟‘‘ بابا نے لڑکی سے پوچھا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا، تو ایک کسان کی آواز آئی’’میری ہے بابا۔‘‘ ’’تیری ہے؟‘‘ بابانور کسانوں کی طرف جانے لگا۔ ’’بڑی سیانی ہے،بڑی اچھی کسان ہے۔ خدا حیاتی لمبی کرے۔‘‘ ’’آج کہاں چلے بابا؟‘‘ لڑکی کے باپ نے پوچھا۔ ’’ڈاک خانے ؟‘‘ دوسرے نے پوچھا۔ ’’ہاں‘‘بابانور ان کے پاس ذرا سا رک کر بولا’’میں نے کہا پوچھ آؤں شاید کوئی چٹھی وٹھی آئی ہو۔‘‘ چاروں کسان خاموش ہوگئے۔انھوں نے ایک طرف ہٹ کر پگڈنڈی چھوڑ دی اور بابانور آگے بڑھ گیا۔ابھی وہ کھیت کے پرلے سرے پر پہنچا ہی تھا کہ لڑکی کی آواز آئی ’’لسی پیوگے بابا نور؟‘‘

بابا نور نے مڑکر دیکھا اور گائوں سے نکلنے کے بعد پہلی بار مسکرایا۔’’پی لوں گا بیٹا ۔‘‘ پھر ذرا سا رک کر بولا۔ ’’پر دیکھ ذرا جلدی سے لادے ۔ڈاک کا منشی ہوا کے گھوڑے پر سوارر ہتا ہے،چلا نہ جائے۔‘‘ لڑکی نے گھاس کی گٹھڑی کندھے سے اتار وہیں کھیت میں رکھی ۔پھر وہ دوڑ کر مینڈ پر اُگی ایک بیری کے پاس آئی۔ تنے کی اوٹ میں پڑے برتن کو خوب چھلکایا ، ایلومونیم کا کٹورا بھرا اور لپک کر بابا نور کے پاس جاپہنچی۔ بابا نے ایک ہی سانس میں سارا کٹورا پی کر رومال سے ہونٹ صاف کیے، بولا’’نصیبہ اس لسی کی طرح صاف ستھرا ہو بیٹا۔‘‘اور آگے بڑھ گیا۔ مدرسے کے برآمدے میں ڈاک کا منشی بہت سے لوگوں کے درمیان بیٹھا روزانہ کے فارم پُر کر رہا تھا۔وہ دیہاتیوں کو معلومات سے بھی مستفید کرتا رہتا: ’’میرا سالا وہاں کراچی میں چپراسی کا کام کرتا تھا۔جب وہ مرا، تو مجھے فاتحہ پڑھنے کراچی جانا پڑا۔

بات یہ ہے دوستو کہ ایک بار کراچی ضرور دیکھ لو چاہے وہاں گدھا گاڑی میں جُتنا پڑے ۔اتنی موٹر کاریں ہیں کہ ہمارے گاؤں میں تو اتنی چڑیاں بھی نہیں ہوں گی۔ ایک ایک موٹر پر وہ وہ عورت ذات بیٹھی ہے کہ اللہ دے اور اللہ ہی لے۔بندہ نہ لینے میں ہے نا دینے میں۔بندوں کو پریوں سے کیا لینا دینا،اللہ کی قدرت یاد آجاتی ہے ،نماز پڑھنے کو جی چاہنے لگتا ہے۔ ’’ایک سیٹھ کہہ رہا تھا کہ بس ایک اور بڑی لام لگ جائے، تو کراچی ولایت بن جائے گی۔کہتے ہیں کتنی بار لام لگنے لگی پر لگتے لگتے رہ گئی ۔ کوئی نہ کوئی بیچ میں ٹانگ اڑا دیتا ہے۔ کہتے ہیں لام میں لوگ مریں گے۔کوئی پوچھے لام نہ لگی ، تو جب بھی تو لوگ مریں گے۔ لام میں گولے سے مریں گے،ویسے بھوک سے مر جائیں گے۔ٹھیک ہے نا۔‘‘

’’ٹھیک ہی تو ہے ۔‘‘ ایک دیہاتی بولا۔’’پر منشی جی پہلے یہ بتائو کہ لفافہ اکنی کاکب کروگے؟‘‘ منشی نے اسے کچھ سمجھانے کے لیے سامنے دیکھا، تو اس کی نظر ایک نقطے پر جیسے جم کر رہ گئی۔ اس کا رنگ فق ہو گیا اور وہ بجھی ہوئی آواز میں بولا’’بابا نور آرہا ہے۔‘‘ سب لوگوں نے پلٹ کر دیکھا اور پھر سب کے چہرے کملا گئے۔ بچے مدرسے کے دروازوں اور کھڑکیوں میں جمع ہو کر ’’بابا نور۔بابا نور۔‘‘ کی سر گوشیاں کرنے لگے۔ منشی نے انھیں ڈانٹ کر اپنی اپنی جگہ پر بٹھادیا۔ سفیدبراق بابا نور سیدھا مدرسے کے برآمدے کی طرف آ رہا تھااور لوگ جیسے سہمے جا رہے تھے۔ برآمدے میں پہنچ کر اس نے کہا’’ڈاک آگئی منشی جی۔؟‘‘

’’آگئی بابا ۔‘‘منشی نے جواب دیا۔ ’’میرے بیٹے کی چٹھی تو نہیں آئی ؟‘‘بابانے پوچھا۔ ’’نہیں بابا۔‘‘ منشی بولا۔ بابا نور چپ چاپ واپس چلا گیا۔دور تک پگڈنڈی پر ایک سفید دھبارینگتا ہوا نظر آتا رہا اور لوگ دم بخود بیٹھے اسے دیکھتے رہے۔ پھر منشی بولا’’ دس سال سے بابا نور اسی طرح آرہا ہے۔یہی سوال پوچھتا اور یہی جواب لے کر چلا جاتا ہے۔ بے چارے کو یہ یاد ہی نہیں رہا کہ سرکار کی وہ چٹھی بھی تو میں نے ہی اسے پڑھ کر سنائی تھی ۔اس میں خبر تھی کہ باباکا بیٹا برما میں بم کے گولے کا شکار ہو چکا۔جب سے وہ پاگل سا ہو گیا ہے۔ مگر خدا کی قسم ہے دوستو، اگر آج کے بعد وہ پھر بھی میرے پاس یہی پوچھنے آیا، تو مجھے بھی پاگل کر جائے گا۔‘‘

احمد ندیم قاسمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مشین گردی
  • ہائے یہ خُود ساختہ معیارات
  • سنا ہے عالم بالا میں کوئی کیمیا گر تھا
  • 25 دسمبر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ایک طوائف کا خط
پچھلی پوسٹ
یزید

متعلقہ پوسٹس

رونے کی آواز

جون 9, 2020

آج کی نظم اور اس کے انسلاکات

دسمبر 4, 2022

روشنی کی پناہ

دسمبر 13, 2024

احادیث سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے

ستمبر 15, 2023

پاکستان–سعودی عرب دفاعی معاہدہ

ستمبر 18, 2025

میر واہ کی راتیں 

فروری 17, 2020

دیہی سندھ کے مسائل

مارچ 30, 2022

ہارتا چلا گیا

مئی 16, 2015

رسول اللہ ﷺ سے محبت ایمان کا تقاضہ

ستمبر 28, 2025

کچرے والا

دسمبر 23, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کتاب کا خلاصہ

جنوری 15, 2020

چیونٹیاں

مارچ 24, 2026

ایں دفتر بے معنی

جنوری 3, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں