خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اختر شیرانیمولسری کے پھول
اختر شیرانیاردو افسانےاردو تحاریر

مولسری کے پھول

از فضّہ مئی 20, 2020
از فضّہ مئی 20, 2020 0 تبصرے 59 مناظر
60

مولسری کے پھول

اُس دن کے بعد کتنی بہاریں آئیں اور چلی گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
اُس وقت سے اب تک ہر بہار میں، جب بھی پھولوں کاموسم قریب آتا ہے اُس دن کے تاثّرات میری نگاہوں میں مجسّم ہو جاتے اور آنکھوں میں بے اختیار آنسوبھر آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ !
بہار یا، برسات کا آغاز تھا۔ ہم حسبِ معمول اپنے مخصوص ساحلی ٹیلے پر بیٹھے ہوئے، غروب آفتاب کاسہاناسماں دیکھ رہے تھے۔ دریا کی ہلکی ہلکی دھیمی دھیمی لہریں آپس میں ٹکراتی اور چُہلیں کرتی ہمارے سامنے گزر رہی تھیں۔ کامل سکوت کا عالم تھا۔ جسے کبھی کبھی موجوں کی ٹکّریں، چرواہوں کی صدائیں یا دُور دراز کی راہوں سے آنے جانے والے چھکڑوں کی آوازیں چھیڑ دیتی تھیں۔ اِس کے سواکوئی چیز ایسی نہ تھی جس سے خیالات اور افکار کی یکسوئی و خاموشی کوٹھیس لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ّ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس کی آنکھیں اُفق پر جمی ہوئی تھیں اور وہ بادلوں کی قرمزی رنگ قطاروں میں محو تھا۔۔۔۔ قریب کے کھیتوں سے آنے والی، عنفوانِ بہار کے ابتدائی سانسوں کی بھینی بھینی خوشبو، ہمارے دماغوں کو مست ومسرورکر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دریا کے اُس پار جہاں تک نظر کام کرتی تھی، کشت زاروں کے زمرّدیں مناظراورسبزے کی وہ ابتدائی مخملی صورتیں، جو ابھی سبزہ نہ بنی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھوں کو طراوت بخش رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی آواز میں، ہمیشہ کی طرح حسرت و غم کی تاثیر موجود تھی۔۔۔۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ، رُکتے رُکتے، جھجکتے جھجکتے باتیں کرتا تھا۔۔۔۔دفعتاً اُس نے اپنی نگاہوں کو اُفق سے ہٹا کر دریا کی طرف متوجّہ کر دیا اور مقابل کے ساحل پر بچھے ہوئے سبزہ زاروں کو ایک نظر دیکھ کر مجھ سے پوچھا:۔
"درختوں میں پھول آنے لگے ہونگے، اب تو۔۔۔۔۔۔۔ ؟ ”
"میرا خیال ہے آس پاس کے باغوں میں تو نہیں۔ ”
"مولسری میں کب تک آئیں گے ؟ ”
"شاید بیس روز تک ”
پھر میں نے دریافت کیا:۔
"مولسری کے پھُول بہت پسند ہیں آپ کو؟۔۔۔۔۔۔ آپ نے پچھلے چند دنوں میں دو تین مرتبہ یہی سوال دُہرایا ہے۔۔۔۔۔ ؟ ”
"صرف۔۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ کومولسری کے پھول پسند نہیں؟ کیسے خوش نما معلوم ہوتے ہیں؟
"کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔ بڑے خوبصورت۔۔۔۔۔۔ مگردوسرے پھول بھی تو کچھ کم نہیں۔۔۔۔۔۔۔ مثلاً بیلا، ہزارہ، جوہی اور چنبیلی کے پھولوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ ”
"ہاں۔۔۔۔۔۔ مگرمولسری کے پھُول۔۔۔۔۔۔ وہ مجھے کچھ اسرارآلودسے نظر آتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اُن کی سفیدی۔۔۔۔۔۔۔ "اور وہ خاموش ہو گیا۔
میں نے اصرار کیا کہ اپنی بات تو پوری کیجئے۔
"مولسری کے پھولوں سے میری زندگی کی ایک تلخ یاد وابستہ ہے۔۔۔۔۔ اجازت ہو تو عرض کروں۔۔۔۔۔۔۔ ”
۔۔۔۔۔۔۔ اُس کا لہجہ پہلے سے زیادہ گہرا اور غم انگیز ہو گیا۔
"ہماری شادی کو ایک سال گزرا تھا ہمارے ازدواجی تعلّقات نہایت صمیمانہ اور بے تکلّفانہ تھے۔۔۔۔۔ بدقسمتی سے شادی کے چھ ماہ بعد ا اُسے ایک موذی مرض نے آ گھیرا۔ اُس کے قویٰ روز بروز تحلیل ہونے لگے۔۔۔۔۔ جاڑوں کاساراموسم بیماری میں کٹا۔۔۔۔۔۔ اخیر دنوں میں کسی قدر افاقہ ہوا اور وہ سہارے کے بغیر اپنی جگہ سے ہلنے جُلنے اور چلنے پھرنے کے قابل ہو گئی۔ ہم نے اُس کا چھپرکھٹ کمرے سے نکال کر دالان میں اُس دروازے کے پاس رکھا جو پائیں باغ میں کھُلتا تھا۔ جب کبھی دروازہ کھُلا ہوتا۔ وہ پائیں باغ کی طرف دیکھتی رہتی۔ کبھی دروازے میں جا کھڑی ہوتی اور اُس کی نظریں درختوں کے ہجوم کا جائزہ لینے میں محو ہو جاتیں۔ اُن درختوں کے درمیان اور دروازے کے بالکل سامنے مولسری کا ایک شاندار درخت تھا۔ جس کی بعض شاخیں دروازے تک سایہ زن تھیں اور اِسی لیے یہی درخت دیکھنے والوں کی نگاہوں کو، سب سے پہلے اپنی طرف متوجّہ کر لیتا تھا۔ وہ مولسری کے پھولوں کو خصوصیت کے ساتھ بہت پسند کرتی تھی اور اُس کی دلی آرزوؤں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ جب مولسری کے پھُول کھلنے لگیں تو وہ اپنی ماں اور بہنوں کو بلائے اورسب مل جل کراِس درخت کی گھنیری چھاؤں میں برسات کی رنگ رلیاں منائیں۔ جھولا جھولیں اور ملہار گائیں۔۔۔۔۔ جب کبھی دروازہ کھُلا ہوتا وہ مولسری کے درخت کی طرف ٹکٹکی باندھ لیتی اور بار بار مجھ سے دریافت کرتی:۔
"مولسری میں پھول کب آئیں گے ؟ ”
میں جواب دیتا۔ "چند رو ز تک۔۔۔۔۔۔۔ ”
اور وہ حسرت بھرے لہجے میں دریافت کرتی۔ "کیا میں اُس وقت تک زندہ رہوں گی؟ "یہ کہتے ہوئے اُس کی غزالی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑتے اور اُس کے بیماری زدہ مگر ماہتابی رُخساروں پر بہہ نکلتے۔ اِس پروہ اپنے تاثّرات کو مجھ سے چھُپانے کے لیے آنچل سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیتی۔۔۔۔۔۔۔ راتوں کو اکثر جب میں اُس کابخارسے جلتا ہوا ہات اپنے ہات میں لیے اُس کی پائنتی پر بیٹھا ہوتا، بخار کے ہذیانی عالم میں بے اختیاراُس کی زبان سے بار بار یہی جملہ نکلتا۔
ہوش کی حالت میں بھی، مایوسی کی نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے، اپنی لرزتی ہوئی کمزور آواز میں مجھ سے پوچھا کرتی۔
"مولسری میں پھُول کب آئیں گے "؟
اُس وقت اُس کی آواز میں ایسا تاثّر اتنا درد اور اِس درجہ حُزن ہوتا کہ میں اپنے سینے کو شق اور دل کو پارہ پارہ ہوتامحسوس کرتا۔۔۔۔۔۔ اُس کی نوجوانی اور ناتوانی سے ہر اپنے پرائے کا جگر خون تھا۔۔۔۔۔۔
آفتاب طلوع ہونے والا تھا کہ میں اُس کے چھپرکھٹ کے قریب گیا۔ وہ جاگ رہی تھی۔ میں نے اُس کی نبض دیکھی۔ بڑی آہستہ رفتار سے چل رہی تھی۔ تنفّس میں بھی ایک خاص قسم کی تنگی اور گرفتگی موجود تھی۔ اُس کی آنکھیں گھبرائی ہوئی سی اِدھر اُدھر نگراں تھیں۔
میں آہستہ سے اُس کے پاس بیٹھ گیا۔ اُس نے اپنے کمزور لرزتے ہاتھوں سے میرا ہات تھام لیا اور اپنے ہونٹوں سے چھوتے ہوئے۔۔۔۔۔۔ کسی قدر غیر مفہوم اور شکستہ و بے ربط الفاظ میں۔۔۔۔۔۔ مولسری کے پھولوں والا۔۔۔۔۔۔۔ فقرہ دُہرایا۔ اُس نے دُہرایا یا شاید غیر ارادی طور پر ادا ہوا۔ اُس کی آنکھوں میں غیر معمولی اور غیر قدرتی چمک تھی اُس کی پیشانی پر ٹھنڈے پسینے کے قطرے اُبھر آئے تھے۔ ایک رقّت انگیز اور فریاد آمیز اندازسے اُس نے اپنے کانپتے ہوئے ہات میری گردن میں ڈال دیے۔ سیاہ درخشاں آنکھوں سے آنسوؤں کے دو قطرے اُبل پڑے۔ نازک و ناتواں ہونٹ ہلے۔۔۔۔۔ اور تھرتھراتے ہوئے کچھ یونہی سے کھُلے۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔ "ماں ‘‘۔۔۔۔۔ "بہن ‘‘۔۔۔۔۔ اور کچھ ایسے لفظ جیسے "مولسری ‘‘۔۔۔۔۔ درخت اور "پھول "اُسکی بانہیں ڈھیلی پڑ گئیں۔۔۔۔۔ اور آہستہ آہستہ میری گردن سے جدا ہو کربسترپرجاگریں۔۔۔۔۔۔آخری لفظ جواُس کے ہونٹوں سے نکلا "اللہ "کا غیر فانی نام تھا۔۔۔۔۔ اُس کے سوا کچھ نہیں۔۔۔۔۔ ایک حرف تک نہیں۔۔۔۔۔ کچھ کہے سنے بغیر۔۔۔۔ کوئی اشارہ کیے بغیر۔۔۔۔۔ نہ تشنّج کی علامتیں۔۔۔۔۔۔ نہ جانکنی کی زحمتیں۔۔۔۔۔۔ اور وہ رخصت ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔۔۔۔ قیامت تک کے لیے !
_____________________
عصر کے قریب اُس کو سپردِخاک کر کے گھر پہنچا۔ آہستہ سے اُس کے کمرے کا دروازہ کھولا۔ در و دیوار پراداسی طاری تھی۔۔۔۔۔۔۔ دالان میں آیا۔ گزرے ہوئے دنوں کی طرح، آج بھی چاروں طرف ایک غم انگیزسکوت طاری تھا۔۔۔۔۔ غم انگیز اور ماتم آمیز!۔۔۔۔۔ پائیں باغ کا دروازہ کھولا۔ درختوں پر نظر پڑی۔ اُن شاخوں پر۔۔۔۔۔۔۔ مولسری کی اُن شاخوں پر، جو دروازے تک پھیلی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔۔ اور دیکھا۔۔۔۔۔۔ میں نے دیکھا کہ مولسری کی شاخوں کے عین وسط میں، ایک تازہ پھول کھِلا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ برسات کی پہلی بوند کی طرح۔۔۔۔۔۔ سورج کی اولّین کرن کی طرح۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔ بہار کی آنکھ کے آنسو کی طرح۔۔۔۔۔۔۔ ! ”
میراساتھی خاموش ہو گیا۔۔۔۔۔ وفورِ جذبات نے اُسے زیادہ کچھ کہنے نہ دیا۔ اُس کی آنکھوں میں آنسوبھرآئے تھے۔۔۔۔۔۔ آفتاب غروب ہو چکا تھا۔ اُفق پر تاریکی پھیل رہی تھی۔ درختوں کے تنے دیو قامت راز آلوداورپُراسرارسے دکھائی دیتے تھے۔۔۔۔۔۔۔ ہوا میں سردی یا اول سردی محسوس ہوتی تھی۔۔۔۔۔ ہم اپنی جگہ سے اُٹھے اور جب اپنے گھر جانے لگے تواُس نے دریافت کیا۔
کیا اِس سال مولسری کے پھولوں کی بہار دیکھ دسکوں گا؟ ”
۔۔۔۔۔۔ چند روز بعد مجھے ایک ضرورت سے پردیس جانا پڑا۔ ایک ہفتے کے بعد جب میں لوٹا تو میں نے دیکھا کہ مولسری کے درختوں پر پھولوں نے چھاؤنی چھا رکھی ہے۔ کوئی چھوٹا بڑا درخت ایسا نہ تھا جو پھولوں میں غرق نہ ہو۔۔۔۔۔۔ مگر میرے ساتھی کا کہیں پتہ نشان نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔ کہاں چلا گیا؟ !۔۔۔۔۔۔۔ نہیں معلوم۔۔۔۔۔۔ زمین کھا گئی یا آسمان!
اِس واقعے کو گزرے کئی سال ہو چکے۔ مگرہرسال، جب بھی برسات آتی اور مولسری کے درختوں میں پھول کھلتے ہیں۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنا وہ ساتھی اور اُس کا قصّۂ غم یاد آتا ہے اور کچھ دیر کے لیے مغموم کر جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ !
آہ مجبور انسان۔۔۔۔۔۔۔۔ !
کون جانے، اب کے برس مولسری کے پھولوں کی بہار دیکھنی میری قسمت میں بھی لکھی ہے یا نہیں؟ ؟ ؟
(فارسی سے )

اختر شیرانی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • وہ
  • 12 سالہ تنازع
  • دو سانحات اور برڈباکس
  • یہ پریشانی مبارک ہو!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
فضّہ

اگلی پوسٹ
نپولین کی محبوبہ
پچھلی پوسٹ
جدائی

متعلقہ پوسٹس

انصاف کی بدبو دیتی لاش

جنوری 21, 2019

ہر مشکل میں مضبوط

دسمبر 12, 2024

عورت

جولائی 7, 2026

اسلام کی اہمیت

مارچ 12, 2026

اتنا ظرف ھو ابن آدم میں

ستمبر 3, 2025

اردو: قومی زبان اور ہماری ذمہ داری

اگست 17, 2025

بلاؤز

اپریل 15, 2016

سرِ کریک

اکتوبر 5, 2025

گندم

مئی 25, 2024

لداخ کی گونجتی آواز

ستمبر 26, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہرے رنگ کی گڑیا

جون 14, 2020

واہ! محمد علی سدپارہ

فروری 10, 2021

تین موٹی عورتیں

دسمبر 7, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں