خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرپیکاسو کی بیوہ
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرڈاکٹر یونس بٹ

پیکاسو کی بیوہ

از سائیٹ ایڈمن مارچ 10, 2020
از سائیٹ ایڈمن مارچ 10, 2020 0 تبصرے 30 مناظر
31

پیکاسو کی بیوہ

پاکستان بننے سے قبل سکھوں کے شہر ننکانہ میں ایک لڑکا ہاتھ میں ڈانگ لئے گزرتا تو ہر طرف سے آوازیں آنے لگتیں، بابا ڈانگ بابا ڈانگ یہ بچہ ہر وقت ہاتھ میں ڈانگ اس لئے رکھتا کہ اس کے ددھیال والے اس کی ماں سے اچھا سلوک نہیں کرتے ، اسے اپنی امی سے اتنا پیار تھا کہ جب وہ بڑا ہو کر مصور بنا تو تصویر پر اس نے اپنا جو نام لکھا اس میں بھی امی آتا تھا، وہ تھا رامی یہ الگ بات ہے کہ تصویر دیکھ کر لوگوں نے نام کو یوں ادا کرنا شروع کر دیا کہ احتیاط رامی کے بجائے رامے لکھنے لگے ، وہ اداکار جتندر کے ہم عمر اور بچپن کے ساتھی ہیں، یہ الگ بات ہے کہ آج کل رامے پچاس سے اوپر ہیں، جب کہ جتندر پچیس سے اوپر کے ، ویسے بھی اداکار بیوی، اور کار جب پرانی ہو جائے تو چالیس سے اوپر نہیں جاتی، بہر حال ان دونوں نے اداکاری کیلئے مختلف فیلڈ چنے اور کامیاب رہے ۔
والدہ انہیں بچپن میں جھوٹ بولنے سے منع کرتیں، انہیں کیا پتہ تھا کہ بیٹا بڑا ہو کر سیاست دان بنے گا، رامے صاحب جس کسی واقعہ پر حیران ہوں تو نہیں چپ لگ جاتی ہے ، اپنی پیدائش کے تین سال بعد تک نہ بولے ، چھوٹے تھے تو کئی سال بعد بولنا آیا، بڑے ہوئے تو کئی سال چپ ہونا نہ آیا، فلسفے میں داخلہ لیا، ہر گتھی سلجھائی، جو گتھی سلجھنے کی بجائے الجھنے لگی اس سے شادی کر لی،ماں اور بیوی نے ان کی شخصیت پر ایسا اثر ڈالا کہ آج بھی وہ 50 فیصد ماں اور 50فیصد بیوی ہیں، ڈاکٹر مبشر حسن کی زنانہ آواز، عابدہ حسین پنجاب کی مردانہ آواز اور رامے صاحب پنجاب کی درمیانہ آواز ہیں، جو ان کی آواز ایک بار سن لے پھر وہ انھیں محترم نہیں محترمی کہہ کر ہی بلاتا ہے ۔
سیاست اور محبت میں جو کرتے ہیں وہ جائز ہوتا ہے ، صرف وہ ناجائز ہوتا ہے جو دوسرے کرتے ہیں، پہلے سیاستدان کرپٹ ہوتے تھے ، آج کل کرپٹ سیاستدان ہو گئے ہیں، رامے خود کو اس سیاست کا باغی کہتے ہیں، انہیں مل کر باغی سے مراد باغ میں آنے جانے والا ہی لیا جا سکتا ہے ، کہتے ہیں میں مڈل کلاس سے ہوں، ہم نے سنا ہے ، مڈل کلاس سے تو غلام حیدر وائیں صاحب تھے ، رامے تو ایم اے ہیں، اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ میں مڈل کلاس کی نمائندگی کی ہے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں، ہم خود مڈل کلاس کی نمائندگی کر چکے ہیں، مڈل کلاس میں ہم مانیٹر تھے ۔
1957 میں نصرت نکالا، بعد میں نصرت پیپلز پارٹی کا ترجمان بنا، اب تو نصرت پیپلز پارٹی کی ترجمان ہے ، بھٹو دور میں رسالے نصرت پر اپنے نام سے پہلے طابع لکھتے مگر اسے تابع پڑھتے ، سولہ ماہ وزیر اعلیٰ ہاؤس میں سولہ ماہ شاہی قلعے میں قید رہے ، لون ان سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ جب وہ وزیر اعلیٰ تھے تو لوگ وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے جا کر کہتے وزیر اعلیٰ کو رہا کرو، لیکن یہ آج تک یہی سمجھتے ہیں کہ عوام کہتے تھے ، وزیر اعلیٰ رہا کرو، آج بھی نام کے ساتھ وزیر اعلیٰ یوں لکھتے ہیں جیسے ڈاکٹر اپنے نام کے ساتھ ایم بی بی ایس لکھتے ہیں۔
روزنامہ مساوات سے نکل کر مساوات پارٹی بنائی، دونوں میں یہ فرق تھا کہ روزنامہ مساوات میں کارکن زیادہ تھے ، پارٹی کا اس قدر خیال رکھتے کہ جب کہیں باہر جاتے تو ہمسائیوں کو کہہ کر جاتے کہ اس کا خیال رکھنا آ کر لے لوں گا، ریٹرن ٹکٹ پر سفر کرتے ہیں، وہ تو الیکشن میں بھی ریٹرن ٹکٹ پر ہی Suffer کرتے ہیں۔
مصوری فطرت کی عکاسی ہوتی ہے ، جی ہاں مصور کی فطرت کی، پینٹنگ دیکھنے کا اصول یہ ہے کہ خود نہ بولو پینٹنگ بولنے دو، رامے صاحب نے تجریدی مصوری کو بہت توجہ دی، ویسے بھی تجریدی مصوری اتنی تو توجہ مانگتی ہے کہ مصور کا ذرا دھیان ادھر ادھر ہو جائے تو بھول جاتا ہے ، کہ کیا بنا رہا تھا، سکھوں کے شہر میں پیدا ہوئے مگر اپنی گفتگو سے اس کا پتہ نہیں چلنے دیا، ان کی تصویروں سے پتہ چلتا ہے کہ بدصورتی کو بڑی خوبصورتی سے پینٹ کرتے ہیں، مصوری میں وہ پکاسو کی بیوہ ہیں، کسی تصویر کو کپڑے پہنا دیں تو اس کا طرف یوں دیکھیں گے جیسے کوئی سخی کسی ننگے کو لباس پہنانے کے بعد دیکھتا ہے ، بچپن میں ٹریس کر کے تصویریں بناتے اور مار کھاتے ، ہمارے تو ایک جاننے والے مصور نے ٹریس کر کے تصویر بناتے ہوئے بیوی سے مار کھائی کیونکہ وہ ایک ماڈل سے تصویر ٹریس کر رہے تھے ۔
جہاں بلند بولنا ہو، وہاں سرگوشی کرتے ہیں، جہاں سرگوشی کرنا ہوں وہاں خاموشی کریں گے ، انہیں تو ایک آدمی سے بات کرنے کیلئے بھی مائیک کی ضرورت ہے ، اس قدر آہستہ بولتے ہیں، کہ زور لگا کر سننا پڑتا ہے ، ان کا چہرہ ایک بار دیکھ لو تو ایک بار ہی یاد رہتا ہے بار بار دیکھو تو بار بار بھولے گا، انہیں ہر مشکل پسند آتی ہے ، وہ تو مشکل کو مہ شکل سمجھتے ہیں۔
انہوں نے اپنی آواز کبھی بیوی کے قد سے بلند نہیں کی، ان کی پسندیدہ شخصیت ان کی بیوی کا شوہر ہے ، ہر بیوی کے جذبات کا اس قدر خیال رکھتے ہیں کہ اگر انہیں پتہ ہو کہ مجھے آج مرنا ہے ، تو وہ سب سے پہلے جو کام کریں گے ، وہ یہ ہو گا سب سے پہلے اپنی بیوی کو تعزیتی کارڈ ارسال کریں گے ، اسکول میں ان کی نرم طبعیت، قوت برداشت اور صبر کی وجہ سے ایک بار اسکول ٹیچر نے کہا تھا، یہ مستقبل کا مستقل شوہر ہے ، آج کل دینا کی سپر پاور امریکہ ہے ، رامے صاحب کی دنیا کی سپر پاور بھی آج کل ایک امریکن ہی ہے ۔
کہتے ہیں کہ اقتدار کا بھولا شام کو پارٹی میں آ جائے تو بھولا نہیں کہلاتا، البتہ اگر وہ رات کو پارٹی میں آئے تو بات کچھ اور ہے ، انہیں ڈاکٹر کہے کہ آپ کی صحت کیلئے تبدیلی ضروری ہے ، تو صبح پارٹی بدل لیں گے ، کہتے ہیں کہ میں نے زندگی میں جو چیز سب سے زیادہ دیکھی ہے ، وہ سورج ہے ، واقعی چڑھتے ہوئے سورج کو ان سے زیادہ کس نے دیکھا ہو گا، استاد تھے تو طبعیت میں شاگردی تھی، طبعیت میں استادی آئی تو سیاست میں آ گئے ، انہیں ہر وقت ایک بندہ چاہئے جس کی تعریفیں کر سکیں، اگر کوئی نہ ملے تو شادی کا سوچنے لگتے ہیں، کافی اس قدر پسند ہے کہ وہ چیز لیتے ہیں جو کافی ہو، ہم تو کہتے ہیں کہ مشروبات ہیں ہی دو طرح کے ایک کافی اور دوسرے نہ کافی۔
صاحب جس نے کبھی عورت سے محبت نہیں کی، وہ قابل اعتبار نہیں ہو سکتا اور جس نے عورت ہی سے محبت کی، وہ بھی قابل اعتبار نہ رہا، ادب نے ان کا قدر بحیثیت سیاستدان کم کیا اور سیاست نے ان کا قد بحیثیت ادیب کم کیا، کہتے ہیں میری تحریروں میں علم و فضل کی کمی نظر آئے تو ادیب سمجھ کر معاف کر دیں۔
محمد حنیف رامے وہ تصویر ہیں جو انہوں نے خود بنائی ہے ، کبھی انہوں نے اسے ایک سیاستدان وزیر اعلیٰ کی شکل دی، کبھی ترقی پسند صحافی کی، کبھی پنجاب کا مقدمہ لڑنے والے ادیب کی، کبھی مقرر اور کبھی دانشور کا روپ دیا اور کبھی ان سب پر خط تنسیخ پھر کر ہاتھ میں برش پکڑ کر خود تصویر کی جگہ آ کھڑے ہوئے ، یہ وہی بابا ڈانگ ہے جو خود تو وہی کا وہی رہا مگر اس کی ڈانگ گھستے گھستے قلم اور برش ہو گئی۔

ڈاکٹر محمد یونس بٹ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • یہ ہی چراغ جلینگے تو روشنی ہوگی!
  • سرِ کریک
  • ہیں خواب میں ہنوز
  • کتنے پل صراط
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بابا جمہورا
پچھلی پوسٹ
اے مرے بےوفا الوداع الوداع

متعلقہ پوسٹس

ٹیسٹ کرکٹ سے لیگ کرکٹ کا سفر!

جنوری 20, 2021

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

گلاب ظالم

مئی 21, 2020

قرآن اور انسانی نفسیات

نومبر 5, 2025

نِکّی

جنوری 15, 2020

آج کی نظم اور اس کے انسلاکات

دسمبر 4, 2022

محفلِ محبت کا مزہ

دسمبر 3, 2024

مائی نانکی

جنوری 17, 2020

روشانے کی رخصتی

جولائی 31, 2022

موم بتی کے آنسو

جنوری 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

غالب اور سرکاری ملازمت

اکتوبر 22, 2019

خامہ بگوش کے قلم سے

دسمبر 15, 2019

خدمتِ خلق

فروری 9, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں