445
عطار کے مسکن میں یہ کیسی اداسی ہے
سونے کی مقابل میں ہر سمت ہی مٹی ہے
تو صاحب قدرت ہے تو اپنا کرم رکھنا
صحرا کی طرف مائل حالات کی کشتی ہے
روشن ہے درخشاں ہے یہ دور بظاہر تو
مزدور کے بس میں تو بس ریڑھ کی ہڈی ہے
لمحوں کی تعاقب میں صدیوں کی دھروہر تھی
افسوس کے دامن میں غربت کی یہ بستی ہے
وہ صاحب مسند ہیں اس سے انہیں کیا مطلب
جذبوں کے دریچوں سے جاری کوئی ندی ہے
ہر خواب شکستہ ہے تعمیر نشیمن کا
ہر صبح کے ماتھے پر بازار کی گرمی ہے
کچھ اور مسائل سے الجھے گا ابھی عالمؔ
ہر صاحب عالم پہ چھائی ابھی مستی ہے
افروز عالم
