465
دیر تک چند مختصر باتیں
اس سے کیں میں نے آنکھ بھر باتیں
تو مرے پاس جب نہیں ہوتا
تجھ سے کرتا ہوں کس قدر باتیں
کیسی بیچارگی سے کرتے ہیں
بے اثر لوگ با اثر باتیں
دیکھ بچوں سے گفتگو کر کے
کیسی ہوتیں ہیں بے ضرر باتیں
سن کبھی بے خودی میں کرتے ہیں
بے خبر لوگ با خبر باتیں
اس کی عادت ہے بات کرنے کی
وہ کرے گا ادھر ادھر باتیں
انتہائی حسین لگتی ہے
جب وہ کرتی ہے روٹھ کر باتیں
آ مجھے سن کہ ہو تجھے معلوم
کیسی ہوتی ہیں خوب تر باتیں
سہل کٹ جائے یہ طویل سفر
اور کر میرے ہم سفر باتیں
کوئی سنتا نہ ہو کہیں عاصمؔ
یوں نہ کر اس سے فون پر باتیں
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
