431
اس سے پہلے کہ زمیں زاد شرارت کر جائیں
ہم ستاروں نے یہ سوچا ہے کہ ہجرت کر جائیں
دولت خواب ہمارے جو کسی کام نہ آئی
اب کسی کو نہیں ملنے کی وصیت کر جائیں
دہر سے ہم یوں ہی بیکار چلے جاتے تھے
پھر یہ سوچا کہ چلو ایک محبت کر جائیں
اک ذرا وقت میسر ہو تو آ کر مرے دوست
دل میں کھلتے ہوئے پھولوں کو نصیحت کر جائیں
ان ہوا خواہوں سے کہنا کہ ذرا شام ڈھلے
آئیں اور بزم چراغاں کی صدارت کر جائیں
دل کی اک ایک خرابی کا سبب جانتے ہیں
پھر بھی ممکن ہے کہ ہم تم سے مروت کر جائیں
شہر کے بعد تو صحرا تھا میاں خیر ہوئی
دشت کے پار بھلا کیا ہے کہ وحشت کر جائیں
ریگ دل میں کئی نادیدہ پرندے بھی ہیں دفن
سوچتے ہوں گے کہ دریا کی زیارت کر جائیں
ادریس بابر
