409
دریا وہ کہاں رہا ہے جو تھا
یہ شہر کا آخری قصہ گو تھا
جو خاک سی دل میں اڑ رہی ہے
یاں کوئی غزال ہو نہ ہو تھا
اب سے یہ ہمارا گھر نہیں خیر
پہلے بھی نہ تھا خیال تو تھا
ثابت نہیں کر سکو گے تم لوگ
کیا میرا وجود تھا چلو تھا
دونوں گھڑیوں پر ہجر کا وقت
ہونا نہیں چاہیے تھا سو تھا
اس خواب میں کیا نہیں دراصل
بس کہہ تو دیا نا خواب جو تھا
ادریس بابر
