377
مجھ کو یہ وقت وقت کو میں کھو کے خوش ہوا
کاٹی نہیں وہ فصل جسے بو کے خوش ہوا
وہ رنج تھا کہ رنج نہ کرنا محال تھا
آخر میں ایک شام بہت رو کے خوش ہوا
صاحب وہ بو گئی نہ وہ نشہ ہوا ہوا
اپنے تئیں میں جام و سبو دھو کے خوش ہوا
ایسی خوشی کے خواب سے جاگا کہ آج تک
خوش ہو کے سو سکا نہ کبھی سو کے خوش ہوا
چھانی اک عمر خاک خوشی کی تلاش میں
ہونا تھا رزق خاک مجھے ہو کے خوش ہوا
عادلؔ مرا لباس ہی ہم رنگ داغ تھا
کار رفو کیا نہ کبھی دھو کے خوش
ذوالفقار عادل
