594
محبت کی ہرگز نہیں ہار ہوگی
بھلے لاکھ دنیا یہ دیوار ہوگی
محبت نہیں جرم کوئی جہاں میں
نظر میں وہ پھر کیوں خطا وار ہوگی
بھلا چین کیسے مجھے آئے گا پھر
نہیں بیچ اپنے جو تکرار ہوگی
بھروسہ رکھوگے خدا پہ جو اپنے
تو کشتی سمندر سے بھی پار ہوگی
یہی میں نے اپنے بڑوں سے ہے سیکھا
نہیں حوصلوں کی کبھی ہار ہوگی
اس امید پر جی رہی ہے جیوتیؔ
کبھی تو غریبوں کی سرکار ہوگی
جیوتی آزاد کھتری
