338
اے غم دل یہ ماجرا کیا ہے
درد الفت سے واسطہ کیا ہے
رہنے دو ان حسین وعدوں کو
جھوٹے وعدے ہیں سب نیا کیا ہے
جام و مینا کو چھوڑ کر دیکھو
چشم ساقی کا یہ نشہ کیا ہے
شعلۂ غم کو اور بھڑکائے
کون سمجھے کہ یہ ہوا کیا ہے
چھن گیا ہے سکون بھی میرا
عاشقی نے مجھے دیا کیا ہے
چارہ گر کوئی بھی نہ جان سکا
موت اور عشق کی دوا کیا ہے
کیا بھروسہ ہے زندگانی کا
جانے تقدیر میں لکھا کیا ہے
چشم پر نم مگر لبوں پہ ہنسی
دل میں موناؔ ترے چھپا کیا ہے
ایلزبتھ کورین مونا
