661
یہ تاروں بھری رات یہ چھپ چھپ کے ملاقات ہمیں یاد رہے گی
یہ تاروں بھری رات ہمیں یاد رہے گی
گاتے ہوئے لمحات میں پھولوں کی یہ برسات ہمیں یاد رہے گی
یہ تاروں بھری رات ہمیں یاد رہے گی
اس رات نے دکھلائی ہمیں پیار کی منزل
گھل مل کے دھڑکتے ہیں محبت بھرے دو دل
مچلے ہوئے جذبات میں ڈوبی ہوئی ہر بات ہمیں یاد رہے گی
قدموں میں بچھے جاتے ہیں چاند اور ستارے
ساتھ اپنے چلے آتے ہیں چاند اور ستارے
مہکی ہوئی یہ رات کرنوں کی یہ برسات ہمیں یاد رہے گی
بیتاب نگاہوں نے تمہیں پیار کیا ہے
مل کر نہ جدا ہوں گے یہ اقرار کیا ہے
ہاتھوں میں لئے ہاتھ کہی تم نے جو اک بات ہمیں یاد رہے گی
یہ تاروں بھری رات ہمیں یاد رہے گی
قتیل شفائی
