525
یہ پیڑ اور پرندے عجب اداسی ہے
ترے بغیر مرے یار سب اداسی ہے
گئے وہ دن کہ مری بانہوں میں تو ہوتا تھا
اٹھے ہیں ہاتھ مگر ان میں اب اداسی ہے
نہ سر ہی پھوڑا، نہ بالوں کو میں نے نوچا کبھی
اداس ہوں، یہ مگر دوست کب اداسی ہے
مجھے نواز کوئی ہجر سے بھرا ہوا عشق
میں وہ فقیر ہوں جس کی طلب اداسی ہے
رہا نہ ہجر مگر میں اداس ہوں پھر بھی
مری اداسی کا شاید سبب اداسی ہے
اسے کہو کہ مرے سانس اکھڑ رہے ہیں ندیمؔ
اسے بتاؤ کہیں جاں بہ لب اداسی ہے
