414
واپسی
اذیت اور اس سکوں
دونوں کو ہی دل کھول کے میں نے لٹایا ہے
ہزاروں بار ایسا بھی ہوا ہے
دوستوں کی رہنمائی میں
پھرا ہوں مارا مارا
شہر کی آباد سڑکوں پر
کبھی ویران گلیوں میں
کبھی صحراؤں کی بھی خاک چھانی ہے
مگر اس بار جانے کیا ہوا مجھ کو
نمائش کی دکانوں میں
سجا کر خود کو گھر واپس چلا آیا
ابھی دروازہ میں نے کھٹکھٹایا تھا
کہ گھر والوں نے کینہ توز نظروں سے مجھے دیکھا
جب ان کی آنکھوں میں،
کوئی رمق پہچان کی میں نے نہیں پائی
تو الٹے پیروں واپس لوٹ آیا ہوں
اور اب یہ سوچتا ہوں
دوستوں کی رہنمائی میں
انہیں گلیوں میں صحراؤں میں جا کر
اپنے قدموں کے نشاں ڈھونڈوں
آشفتہ چنگیزی
