459
ترے بعد جو خلا ہے
مرے واسطے بلا ہے
مری آنکھ کا دیا تھا
وہ جو شخص جا چکا ہے
ترے بعد زندگی سے
مجھے قرض مل رہا ہے
مجھے پھر سے آکے مل لو
مرا درد گھٹ رہا ہے
مجھے دو نہ اب تسلّی
مرا درد لا دوا ہے
وہ جو درد کا سبب تھا
وہی درد کی دوا ہے
کسی عکس کے مقابل
کھڑا ہاتھ مل رہا ہے
میری نیند اُڑ گئی ہے
مرا راستہ بڑا ہے
ترے نام کا حوالہ
مرے ساتھ چل رہا ہے
اویس خالد
