643
زندگی کی آندھی میں ذہن کا شجر تنہا
تم سے کچھ سہارا تھا آج ہوں مگر تنہا
زخم خوردہ لمحوں کو مصلحت سنبھالے ہے
ان گنت مریضوں میں ایک چارہ گر تنہا
بوند جب تھی بادل میں زندگی تھی ہلچل میں
قید اب صدف میں ہے بن کے ہے گہر تنہا
تم فضول باتوں کا دل پہ بوجھ مت لینا
ہم تو خیر کر لیں گے زندگی بسر تنہا
اک کھلونا جوگی سے کھو گیا تھا بچپن میں
ڈھونڈتا پھرا اس کو وو نگر نگر تنہا
جھٹپٹے کا عالم ہے جانے کون آدم ہے
اک لحد پہ روتا ہے منہ کو ڈھانپ کر تنہا
جاوید اختر
