281
صحراؤں کے دوست تھے ہم خود آرائی سے ختم ہوئے
اوپر اوپر خاک اڑائی گہرائی سے ختم ہوئے
ویرانہ بھی ہم تھے خاموشی بھی ہم تھے دل بھی ہم
یکسوئی سے عشق کیا اور یکتائی سے ختم ہوئے
دریا دلدل پربت جنگل اندر تک آ پہنچے تھے
اسی بستی کے رہنے والے تنہائی سے ختم ہوئے
کتنی آنکھیں تھیں جو اپنی بینائی میں ڈوب گئیں
کتنے منظر تھے جو اپنی پہنائی سے ختم ہوئے
عادلؔ اس رہداری سے وابستہ کچھ گلدستے تھے
رک رک کر بڑھنے والوں کی پسپائی سے ختم ہوئے
ذوالفقار عادل
