خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ دلچسپ معلوماتنامور مصور
دلچسپ معلومات

نامور مصور

از سائیٹ ایڈمن جنوری 2, 2022
از سائیٹ ایڈمن جنوری 2, 2022 0 تبصرے 64 مناظر
65

ونسنٹ وان کو پاگل پن کے دورے پڑتے تھے اور تصاویر بنانے کے دوران پینٹ پی جاتا تھا۔ اسے موت کے بعد مقبولیت ملی
مصور ونسنٹ وان 30 مارچ 1853ء کو ہالینڈ کے شہر زنڈرٹ میں پیدا ہوا اور 29 جولائی 1890ء کو اس کا انتقال ہوگیا۔ اس کا برج جوزا تھا اور وہ قومیت کے لحاظ سے ڈچ تھا۔ اس کی مصوری کا نمایاں فن پارہ ستاروں بھری رات تھی۔ یہ فن پارہ اس نے 1889ء میں تخلیق کیا تھا۔

ونسنٹ وان کا طرز مصوری کینوس پر روغنی مصوری یا آئل پینٹنگ تھا۔ اس کی روغنی تصاویر یا آئل پینٹنگز میوزیم آف ماڈرن آرٹ نیویارک میں آویزاں ہیں۔ مصور ونسنٹ وان کا مشہور قول ہے کہ ”میں اس حوالے سے کوئی مدد نہیں کرسکتاکہ میرے فن پارے بکتے نہیں ہیں، البتہ ایک وقت ایسا ضرور آئے گا کہ جب لوگ اس بات کے قائل ہو جائیں گے کہ یہ فن پارے اس پینٹ کی قیمت سے کئی گنا قدر و منزلت کے مستحق ہیں جو ان فن پاروں کی تخلیق میں استعمال کیا گیا۔“

ونسنٹ وان نے مفلوک الحالی اور کسی سہارے کے بغیر جو زندگی گزاری، اس پر کھل کر کچھ کہنا بہت مشکل ہے۔ وہ اپنی زندگی میں ایک مشکل یا مصیبت سے نکلتا تو کسی دوسری مشکل میں پھنس جایا کرتا۔ بار بار اس کی ملازمتیں چھوٹتی رہیں۔

اس کی زندگی ناکام کیریئر اور درہم برہم تعلقات پر محیط تھی۔ اس کے پورے تصویر سازی کے دور میں صرف ایک فن پارہ ہی بکا تھا اور آخر کار عاجز آکر اس نے خودکشی کرلی۔ لیکن آج دنیا بھر میں اس کے فن پاروں میں چھپی فنی خوبیوں کو بڑے جوش و خروش سے سراہا جاتا ہے۔

لوگ حیرت میں مبتلا ہیں کہ اس انتہائی مایوس شخص نے صرف آٹھ برسوں کے انتہائی تکلیف دہ کیریئر میں شاداں و فرحاں فن پارے تخلیق کیے ہیں۔ ونسنٹ وان نے جو انقلابی فن پارے تخلیق کیے، انہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اس کے رنگ کینوس سے بھی باہر نکل رہے ہیں۔

شوخ نیلے، بہت روشن سبز اور رخشندہ زرد رنگوں کے امتزاج سے مزین وان کے فن پاروں کو دیکھ کر حیرت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ونسنٹ نے اوائل عمری سے ہی آرٹ میں دلچسپی ظاہر کی، لیکن اسے فن پارے تخلیق کرنے کے بجائے انہیں بیچنے سے دلچسپی تھی۔

اس لیے پندرہ برس کی عمر میں ہی ڈیلرزگوپلی اینڈ کمپنی کی ایک برانچ میں جو اس کا ایک چچا چلاتا تھا، اسے کام مل گیا۔ بعدازاں آجروں نے اس کا ٹرانسفر لندن برانچ میں کردیا، لیکن جلد ہی ان کے علم میں یہ بات آئی کہ ونسنٹ میں مذہبی جوش و خروش بے حد بڑھ گیا ہے اور اس دور میں انگلینڈ میں انونجیلزم کی تحریک بڑے زور شور سے جاری تھی۔

ونسنٹ کے آجروں نے اس صورت حال کی بنا پر اس کا ٹرانسفر پیرس کردیا، لیکن وہاں بھی اس نے تبلیغ کا کام ترک نہ کیا، جس کے نتیجے میں فن پاروں کی فروخت کے بجائے بہت سے گاہک اورکرم فرما ناراض ہوگئے اور اسے ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔

ونسنٹ نے اپنی برطرفی پر غیر محسوس طور پر بے حد جوش و خروش دکھایا اور واپس انگلینڈ آگیا، تاکہ یہاں مشنری کا کام سنبھال سکے۔ اس دوران کرسمس کے موقع پر جب وہ اپنے والدین سے ملنے گیا تو انہوں نے اس سے بے حد اصرار کیاکہ وہ ہالینڈ میں قیام کرے اور وہاں ڈونیٹی اسکول میں داخلہ لے لے، جہاں اسے لاطینی اور یونانی زبان سکھائی جائے گی۔

ونسنٹ نے والدین کی اس تجویز کی مخالفت کی اور کہا کہ کیا یہ مردہ زبانیں کسی غریب کا کچھ بھلا کرسکیں گی؟۔ اس پر اس کے والدین نے اس کا داخلہ ایک مذہبی اکیڈمی میں کرا دیا جہاں اس نے چند ماہ تک کلاسیں اٹینڈ کیں، لیکن فیکلٹی نے اس کے جارحانہ رویے کو ایک مشنری کے لیے ناموزوں قرار دے دیا۔

اس پر ونسنٹ نے کہا کہ جو کچھ بھی ہوا، صحیح ہوا اور وہاں سے رخصت ہوکر ادھر ادھر بھٹکتا ہوا وہ مایوس اور غریب کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے لوگوں میں جا پہنچا، جہاں وہ انہی کی طرح رہتا اور انہیں تبلیغ بھی کرتا رہتا۔ وہ بچا ہوا کھانا کھاتا تھا اور اس کا لباس چیتھڑے ہوا کرتے تھے۔

اس کے پاس جو تھوڑی بہت رقم ہوتی تھی، وہ وہی ہوتی تھی کہ جو اس کا بھائی تھیو اسے بھیجتا تھا۔ بصورت دیگر اسے بھوکا ہی رہنا پڑتا۔ ایک آرٹسٹ کی حیثیت سے خود کو منوانے میں ونسنٹ بہت کم رجحان رکھتا تھا، تاہم کان کنوں کے ساتھ دو سال کا عرصہ گزارنے کے دوران اس کے جذبات اور احساسات میں تبدیلی رونما ہوئی۔

1880ء میں 27 سالہ ونسنٹ نے مذہبی زندگی کو ترک کردیا اور اب وہ کسی تسلیم شدہ اصول اور رسومات کی پیروی سے بیزار تھا۔ ایک آرٹ اکیڈمی میں لگایا جانے والا دورانیہ اس کی ناکامی پر منتج ہوا۔ وہ واپس ہالینڈ اپنے والدین کے پاس آگیا اور بستی کے مکینوں کو اپنے چیتھڑوں جیسے لباس اور حلیے سے خوفزدہ کرنا شروع کر دیا اور اس کا رویہ بھی انتہائی خراب تھا۔

اس کے باپ نے افسردہ لہجے میں کہا کہ وہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے، کیونکہ وہ غیر معمولی وہمی اور سنکی ہو گیا ہے۔ اسی دور میں ایک آرٹسٹ کی حیثیت سے ونسنٹ نے کام کرنا شروع کیا، تاہم اس کے بے کیف اور مایوس کن ابتدائی کام کا، اس کے بعد کے کام سے موازنہ کرنا بے حد مشکل ہے۔ اس کا بعد کا کام بہترین قرار دیا جاتا ہے۔

ونسنٹ نے مظلوم اور استحصال زدہ کاشت کاروں کی عکاسی شروع کردی اور دانستہ طور پر اس مقصد کے لیے مبہم، پھیکے بھورے، گرے اور ڈرٹی گرین و سیاہ رنگوں کا استعمال کیا۔ اس کی بے چین روح جلد ہی شہری زندگی سے اکتا گئی اور وہ مارچ 1886ء میں پیرس چلا گیا۔

یہاں آنے کے فوری بعد اس نے آخری تاثراتی فن پاروں کی نمائش دیکھی اور وہ تاثراتی فن پاروں میں استعمال کیے جانے والے رنگوں کے امتزاج سے بے حد متاثر ہوا۔ اس لیے جلد ہی اس نے اپنے کینوس پر بھی شوخ و شنگ رنگوں اور روشنی سے آراستہ فن پاروں کی تخلیق پرکام شروع کردیا۔

ونسنٹ نے اپنے تمام نقادوں کو نظر انداز کرکے ایک نمائش کا اہتمام کیا جس کے نتیجے میں دوسرے تمام آرٹسٹوں کی توجہ اسے حاصل ہوگئی۔ پیرس میں دو سال گزارنے کے بعد ونسنٹ کی صحت بے حد گر گئی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کثرت سے شراب نوشی کیا کرتا تھا اور ایک ہی وقت میں کافی شراب پی لیتا تھا اور پھر طویل راتیں جاگ کر گزارتا تھا، حالانکہ اس وقت ضرورت اس بات کی تھی کہ وہ شہر سے باہر جاکر آرام و سکون اختیار کرے، تاکہ اس کی صحت بحال ہو، لیکن کافی عرصے تک اس نے اپنے معمولات میں کوئی تبدیلی نہ کی۔

اچانک ہی اسے ایک نیا خیال سوجھا اور اس نے جنوبی فرانس میں”اسٹوڈیو آف ساؤتھ“ تشکیل دینے کا عزم کر لیا، تاکہ وہ وہاں اپنے ہم خیال آرٹسٹوں کی طرح دارالحکومت کے دباؤ سے دور رہتے ہوئے کام کرسکے۔ اس مقصد کیلئے ونسنٹ نے اپنی دانست میں ایک آئیڈیل مقام کے طور پر جنوبی فرانس کے ایک چھوٹے سے آرلیس قصبے کا چناؤ کیا اور اپنے منصوبے کے مطابق فروری 1888ء میں وہاں چلا گیا۔

یہاں ونسنٹ تنہا اور الگ تھلگ ہوکر رہ گیا، کیونکہ یہاں کے لوگوں کی زبان اس سے بالکل جدا تھی۔ اس کے پاس سوائے پینٹنگ کرنے کے دوسرا کوئی کام نہ تھا، اس لیے صرف پندرہ مہینوں میں اس نے تقریباً دوسو فن پارے تخلیق کیے اور اس کے دانشمندانہ تصور کے نتیجے میں یہ فن پارے فوری طور پر مقبول ہوگئے اور اس کے اسٹائل کو کافی پذیرائی ملی۔

اپنے اسٹوڈیو سے دلچسپی رکھنے والے ونسنٹ نے گاگوئین کو بھی وہاں آنے کی دعوت دے دی۔ گاگوئین نے آرٹ کو اپنا دوسرا کیریئر بنا رکھا تھا۔ اس نے اپنی زندگی کا آغاز ایک اسٹاک بروکر کی حیثیت سے کیا تھا۔ اگرچہ وہ ابتدا میں پسارو سے متاثر تھا اور تاثراتی مصوری کو پسندکرتا تھا، لیکن 1888ء تک وہ براہ راست قدرتی ماحول کی عکاسی کے بجائے اپنی تصوراتی سوچ کی جانب مائل ہوگیا تھا۔

اسے ونسنٹ کی آرٹسٹک کمیونٹی میں دلچسپی تو تھی، لیکن وہ اس کے بھائی تھیو کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید بڑھانا نہیں چاہتا تھا جو اس وقت تک ایک اہم ڈیلر بن چکا تھا۔ اس نے آریس کا سفر بھی کیا تھا اور ونسنٹ نے اس کی آمد پر بڑی خوشی کا اظہار کیا تھا۔ اس کے بعد ونسنٹ او گاگوئین میں کشیدگی بڑھتی گئی، یہاں تک کہ گاگوئین نے اعلان کردیا کہ وہ واپس پیرس جارہا ہے۔

ونسنٹ اس کے فوری فیصلے پر غصے سے تلملا کر رہ گیا۔ 1888ء کی کرسمس سے دو روز قبل ان دونوں کے درمیان کیا واقعہ پیش آیا تھا، اس بارے میں تو حقیقتاً ہم کچھ نہیں جانتے۔ تاہم گاگوئین کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اسے اپنا مفاد ہی عزیز تھا، جبکہ ونسنٹ نے ان واقعات کے بارے میں کبھی کچھ نہیں کہا۔

گاگوئین نے استرا نکال کر ونسنٹ کو دھمکیاں دی تھیں اور اس کے بعد ونسنٹ کے کان کی لو کاٹ دی تھی اور بعد میں اس کا پورا ایک کان ہی ختم ہوگیا تھا، ونسنٹ اس زخمی حالت میں بھی قحبہ خانے میں اپنی محبوبہ کے پاس جا پہنچا تھا اور دوسرے دن پولیس اس کے کان سے بہنے والے خون کے قطروں کی نشاندہی پر اس کے گھر پہنچی تو دیکھا کہ ونسنٹ اپنے بستر پر بے ہوش پڑا تھا اور خون جم گیا تھا۔

بعدازاں ونسنٹ کو گھر سے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ بے انتہا خون نکلنے کی وجہ سے ونسنٹ موت کے قریب پہنچ چکا تھا، جبکہ گاگوئین اس کا کان کاٹنے کے بعد پیرس بھاگ گیا اور اس کے بعد دونوں افراد پھر کبھی نہیں ملے۔ ونسنٹ اس کے بعد پہلے والا ونسنٹ نہ رہا۔

جنوری میں اسپتال سے اسے رخصت کردیا گیا، لیکن فروری میں مرض پھر عود آیا۔ اس واقعے کے بعد ونسنٹ کی ذہنی حالت بے حد خراب ہوگئی تھی اور اسے سینٹ ریمی کے ذہنی امراض کے اسپتال میں داخل کر دیا گیا، جہاں وہ کئی ماہ تک زیر علاج رہا اور مکمل پاگل ہونے سے بچ گیا، لیکن اب بھی یہ صورتحال تھی کہ اسے پاگل پن کے دورے پڑتے اور وہ تصاویر بنانے کے دوران رنگوں کو ہی پینا شروع کر دیتا۔

بہرحال بتدریج اس کی حالت سنبھلتی گئی اور مئی 1889ء میں وہ وہاں سے رخصت ہوکر پرونس چلا گیا۔ یہ پیرس کے شمال مغرب میں واقع ایک چھوٹا سا شہر تھا۔ یہاں ونسنٹ نے گندم کے کھیتوں کے حوالے سے فن پارے تیار کئے۔27 جولائی 1890ء کو ونسنٹ کے ہمسایوں نے اسے اپنے کمرے میں خون میں لت پت دیکھا۔ ونسنٹ نے اپنے فن پارے منسوخ کیے جانے پر یہ انتہائی قدم اٹھایا تھا۔ گولی اس کے دل میں لگنے کے بجائے پہلو میں لگی تھی اور اس لئے وہ اس وقت بھی زندہ تھا۔ فوری طور پر اسے اسپتال لے جایا گیا، جہاں دو دن کے بعد وہ مرگیا۔

ونسنٹ کے مرنے کے بعد دنیا نے اس کے فن پاروں کا نوٹس لینا شروع کیا۔ 20ویں صدی کے آخر میں ونسنٹ کی شہرت عروج پر پہنچے گئی اور اس کے فن پارے خطیر رقم کے عوض نیلام ہوئے۔ اس کے آخری فن پاروں میں سے ایک ”اسٹریٹ آف ڈاکٹر گاجیسٹ“ 1990ء میں 82.5 ملین ڈالر میں فروخت ہوا۔

آج ونسنٹ کے فن پارے دنیا بھرکے میوزیمز کے علاوہ تکیوں، ٹائی اور سودا سلف کے بڑے بڑے تھیلوں پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • فرانس کے مشہور مصور
  • دلچسپ و عجیب
  • رائٹ برادران
  • مائیکروسافٹ ورڈ میں اردو لکھنا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ہمیں مزید تبدیلی نہیں چاہیے
پچھلی پوسٹ
فرانس کے مشہور مصور

متعلقہ پوسٹس

عمر خیام

جون 1, 2025

ڈی این اے کیا ہے

جون 15, 2025

دلچسپ وانمول قرآنی معلومات

نومبر 1, 2020

رائٹ برادران

مئی 18, 2025

متفرق دلچسپ معلومات

مئی 13, 2016

سلطان ٹیپو

مئی 25, 2024

دنیا کے سات قدیم عجائبات

مئی 26, 2019

فرانس کے مشہور مصور

جنوری 2, 2022

مائیکروسافٹ ورڈ میں اردو لکھنا

مئی 26, 2021

کچھ تاریخی واقعات

جون 22, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سلطان ٹیپو

مئی 25, 2024

حفاظِ قرآن کے لیے مفید معلومات

دسمبر 6, 2025

دلچسپ وانمول قرآنی معلومات

نومبر 1, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں