102
چھوٹی سی ایک عرض ہے میری جناب سے
آنکھوں کی مے پلا کے بچائیں شراب سے
زاہد شراب منہ سے جو تیرے کبھی لگی
مجھ کو ڈرا سکے گا نہ پھر تو عذاب سے
شبنم کے چند قطروں کو پھولوں سے چھین کے
کیا مل گیا ہے پوچھے کوئی آفتاب سے
مانا کہ ہم سے ہو کے جدا تم اداس ہو
ہم بھی رہے کہیں کے نہ اس انقلاب سے
سیکھیں اسے بھی پڑھ کے محبت ہے چیز کیا
کچھ فائدہ اٹھائیے دل کی کتاب سے
اس تشنگی میں کھائے ہیں میں نے بڑے فریب
دریا بھی لگ رہے ہیں جو مجھ کو سراب سے
کیا لطف رہ گیا ہے پھر اس شخص کے لیے
محروم ہو گیا ہے جو ناصرؔ شراب سے
حکیم ناصر
