436
خشک اشجار پرندوں سے محبت کیا ہے
کیا خبر تجھ کو ہواؤں کی بغاوت کیا ہے
آج محصور ہوئے گھر میں زمانے والے
آج سمجھے ہیں یہ کشمیر کی حالت کیا ہے
کاش تم پوچھ سکو سانس تھمی ہے جن کی
خوف اوڑھے ہوئے جینے میں اذیت کیا ہے
یاد آئی ہے زمیں تجھ کو فنا کی تلخی
اپنے اعمال پہ تھوڑی سی ندامت , کیا ہے؟
صرف اک بار کروں خود سے ملاقات کبھی
اور میرے دلِ ناکام کی حسرت کیا ہے
آنکھ تعبیر کی الجھن سے پریشاں ہے اگر
خواب زاروں میں پنپتی ہوئی حیرت کیا ہے
یہ جو کہتے تھے کہ آ جائے قیامت ارشاد
اب خبر ان کو ہوئی اصل قیامت کیا ہے
ارشاد نیازی
