412
یوں مرا جسم مسمار کرنے لگا
آئینہ عکس پر وار کرنے لگا
اور پھر رُک گئی گردشِ وقت بھی
عشق اپنی حدیں پار کرنے لگا
آخری سانس تھی زندگی کی مری
جب محبت کا اظہار کرنے لگا
مجھ میں جلتا ہوا اک دیا دفعتاً
رقص کرنے پہ اِصرار کرنے لگا
شاذ آنسو بچھا کر مری راہ میں
وہ سفر میرا دُشوار کرنے لگا
شجاع شاذ
