448
کٹھن سفر جو بن تیرے گزارا تھا
میں نے ھر موڑ پہ تجھے پکارا تھا
منجدھار میں ڈوبنے سے ذرا پہلے
تیرے میرے بیچ بس کنارا تھا
دیکھو جو آسماں پہ ستاروں کو
اس جہاں میں تو میرا ستارا تھا
دل کے بدلے میں دل دیا تجھے
یوں تیرا احسان بھی اتارا تھا
الجھے لگتے تھے بکھرے بالوں میں
پھر تیری زلف کو سنوارا تھا
جیتوں گی میں ہی جیتوں گی
سن کہ یہ بات تو ہی ہارا تھا
اب کوئی اور لگائے پھرتا ہے
وہ تیرا نام جس پہ حق ہمارا تھا
سات مرچوں کو لیے ہاتھوں میں
پھر تیرے سر سے ان کو وارا تھا
چار سیدھے تین الٹے دیئے چکر
یوں تیری نظر کو اتارا تھا
لوٹ آئی تہمینہ، وجہ سن لو
ہجر زنداں نے بہت ہی مارا تھا
تہمینہ مرزا
