464
مرا جنوں مری وحشت بدلتی رہتی ہے
ترے مریض کی حالت بدلتی رہتی ہے
مجھے یہ غم نہیں کوئی نہیں ہے ساتھ مرے
مجھے یہ غم ہے محبت بدلتی رہتی ہے
یہان پہ کون کسی کا یقیں کرے کہ یہاں
قدم قدم پہ حقیقت بدلتی رہتی ہے
میں آئینہ بنا تو پھر کسی کا بھی نہ ہوا
کہ آئینے میں تو صورت بدلتی رہتی ہے
کبھی سحر تو کبھی رات بن کے آتی ہے
دیارِ شر میں قیامت بدلتی رہتی ہے
وصال دیر تلک ایک سا نہیں رہتا
کہ اِ س شراب کی لذت بدلتی رہتی ہے
گِلہ نہیں مجھے قسمت سے اس لیے بھی شاذ
میں جانتا ہوں کہ قسمت بدلتی رہتی ہے
شجاع شاذ
