406
کوئی عزت مآب مانگے گا
سب کا لب لباب مانگے گا
تھرتھرائیں گے ظلم کے پیکر
خونِ ناحق حساب مانگے گا
گوشوارے کھلیں گے مقتل کے
وقت سب کا نصاب مانگے گا
رقصِ بسمل پہ جھومنے والا
خشک ہونٹوں سے آب مانگے گا
جب کھلیں گے نقاب چہروں سے
آئنہ بھی حجاب مانگے گا
کل کا سورج قلم فروشوں سے
سچ پہ مبنی کتاب مانگے گا
جس کو رکھا گیا اندھیرے میں
لازماً آفتاب مانگے گا
جب کٹہرے میں آئے گا منصف
تو زمانہ جواب مانگے گا
منزہ سید
