خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےسودا بیچنے والی
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

سودا بیچنے والی

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 23, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 23, 2020 0 تبصرے 484 مناظر
485

سودا بیچنے والی

سہیل اورجمیل دونوں بچپن کے دوست تھے۔ ان کی دوستی کو لوگ مثال کے طور پر پیش کرتے تھے۔ دونوں اسکول میں اکٹھے پڑھے۔ پھر اس کے بعد سہیل کے باپ کا تبادلہ ہو گیا اور وہ راولپنڈی چلا گیا۔ لیکن ان کی دوستی پھر بھی قائم رہی۔ کبھی جمیل راولپنڈی چلا جاتا اور کبھی سہیل لاہور آجاتا۔ دونوں کی دوستی کا اصل سبب یہ تھا کہ وہ حسن پسند تھے۔ وہ خوبصورت تھے۔ بہت خوبصورت لیکن وہ عام خوبصورت لڑکوں کی مانند بدکردار نہیں تھے۔ ان میں کوئی عیب نہیں تھا۔ دونوں نے بی اے پاس کیا۔ سہیل نے راولپنڈی کے گارڈن کالج اور جمیل نے لاہور کے گورنمنٹ کالج سے بڑے اچھے نمبروں پر۔ اس خوشی میں انھوں نے بہت بڑی دعوت کی۔ اس میں کئی لڑکیاں بھی شریک تھیں۔ جمیل قریب قریب سب لڑکیوں کو جانتا تھا، مگر ایک لڑکی کو جب اس نے دیکھا، جس سے وہ قطعاً ناآشنا تھا، تو اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کے سارے خواب پورے ہو گئے ہیں۔ اس نے اس لڑکی کے متعلق، جس کا نام جمیلہ تھا، دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سلمیٰ کی چھوٹی بہن ہے۔ سلمیٰ کے مقابلے میں جمیلہ بہت حسین تھی۔ سلمیٰ کی شکل و صورت سیدھی شادی تھی لیکن جمیلہ کا ہر نقش تیکھا اور دل کش تھا۔ جمیل اس کو دیکھتے ہی اس کی محبت میں گرفتار ہو گیا۔ اس نے فوراً اپنے دل کے جذبات سے اپنے دوست کو آگاہ کردیا۔ سہیل نے اس سے کہا۔

’’ہٹاؤ یار۔ تم نے اس لڑکی میں کیا دیکھا ہے جو اس بری طرح لٹو ہو گئے ہو؟‘‘

جمیل کو برا لگا:

’’تمہیں حسن کی پرکھ ہی نہیں۔ اپنا اپنا دل ہے۔ تمہیں اگر جمیلہ میں کوئی بات نظر نہیں آئی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے دکھائی نہ دی ہو۔ ‘‘

سہیل ہنسا

’’تم ناراض ہورہے ہو۔ لیکن میں پھر بھی یہی کہوں گا کہ تمہاری یہ جمیلہ برف کی ڈلی ہے، اس میں حرارت نام کو بھی نہیں۔ عورت کا دوسرا نام حرارت ہے۔ ‘‘

’’حرارت پیدا کرلی جاتی ہے۔ ‘‘

’’برف میں؟‘‘

’’برف بھی تو حرارت ہی سے پیدا ہوتی ہے۔ ‘‘

’’تمہاری یہ منطق عجیب وغریب ہے۔ اچھا بھئی جو چاہتے ہو، سو کرو۔ میں تو یہی مشورہ دوں گا کہ اس کا خیال اپنے دل سے نکال دو اس لیے کہ وہ تمہارے لائق نہیں ہے۔ تم اس سے کہیں زیادہ خوبصورت ہو۔ ‘‘

دونوں میں ہلکی سی چخ ہوئی لیکن فوراً صلح ہو گئی۔ جمیل، سہیل کے مشورے کے بغیر اپنی زندگی میں کوئی قدم نہیں اٹھاتا تھا۔ اس نے جب اپنے دوست پر یہ واضح کردیا کہ وہ جمیلہ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا تو سہیل نے اسے اجازت دے دی کہ جس قسم کی چاہے، جھک مار سکتا ہے۔ ‘‘

سہیل راولپنڈی چلا گیا۔ جمیل نے جو جمیلہ کے عشق میں بری طرح مبتلا تھا، اس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش شروع کردی، مگر مصیبت یہ تھی کہ اس کی بڑی بہن سلمیٰ اس کو محبت کی نظروں سے دیکھتی تھی۔ اس نے ان کے گھر آنا جانا شروع کیا تو سلمیٰ بہت خوش ہوئی۔ وہ یہ سمجھتی تھی کہ جمیل اس کے جذبات سے واقف ہو چکا ہے اس لیے اس سے ملنے آتا ہے۔ چنانچہ اس نے غیر مبہم الفاظ میں اپنی محبت کا اظہار شروع کردیا۔ جمیل سخت پریشان تھا کہ کیا کرے۔ جب وہ ان کے گھر جاتا تو سلمیٰ اپنی چھوٹی بہن کو کسی نہ کسی بہانے سے اپنے کمرے سے باہر نکال دیتی اور جمیل دانت پیس کے رہ جاتا۔ کئی بار اس کے جی میں آئی کہ وہ سلمیٰ سے صاف صاف کہہ دے کہ وہ کس غرض سے آتا ہے۔ اس کواس سے کوئی دلچسپی نہیں، وہ اس کی چھوٹی بہن سے محبت کرتا ہے۔ بے حد مختصر لمحات جو جمیل کو جمیلہ کی چند جھلکیاں دینے کے لیے نصیب ہوتے تھے، اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اس سے کئی باتیں کرنے کی کوشش کی اور یہ بار آورثابت ہوا۔ ایک دن اسے جمیلہ کا رقعہ ملا، جس کی عبارت یہ تھی:

’’میری بہن جس غلط فہمی میں گرفتار ہیں، اس کو آپ دور کیوں نہیں کرتے۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ مجھ سے ملنے آتے ہیں لیکن باجی کی موجودگی میں آپ سے کوئی بات نہیں ہوسکتی۔ البتہ آپ باہر جہاں بھی چاہیں، میں آسکتی ہوں۔ ‘‘

جمیل بہت خوش ہوا۔ لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کون سی جگہ مقرر کرے اور پھر جمیلہ کو اس کی اطلاع کیسے دے۔ اس نے کئی محبت نامے لکھے اور پھاڑ دیے۔ اس لیے کہ ان کی ترسیل بڑی مشکل تھی۔ آخر اس نے یہ سوچا کہ سلمیٰ سے ملنے جائے اور موقع ملے تو جمیلہ کو اشارۃً وہ جگہ بتا دے، جہاں وہ اس سے ملنا چاہتا ہے۔ قریب قریب ایک مہینے تک وہ سلمیٰ سے ملنے جاتا رہا مگر کوئی موقع نہ ملا۔ لیکن ایک دن جب جمیلہ کمرے میں موجود تھی اور سلمیٰ اسے کسی بہانے سے باہر نکالنے والی تھی، جمیل نے بڑی بے ربطی سے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔

’’لارنس گارڈن۔ پانچ بجے۔ ‘‘

جمیلہ نے یہ سنا اور چلی گئی۔ سلمیٰ نے بڑی حیرت سے پوچھا

’’یہ آپ نے کیا کہا تھا؟‘‘

’’تم ہی سے تو کہا تھا۔ ‘‘

’’کیا کہا تھا؟‘‘

’’لارنس گارڈن۔ پانچ بجے‘‘

۔ میں چاہتا تھا کہ تم کل لارنس گارڈن میرے ساتھ چلو۔ میرا جی چاہتا ہے کہ ایک پکنک ہو جائے۔ ‘‘

سلمیٰ خوش ہو گئی اور فوراً رضا مند ہو گئی کہ وہ جمیل کے ساتھ دوسرے روز شام کو پانچ بجے لارنس گارڈن میں ضرور جائے گی۔ وہ سینڈوچز بنانے میں مہارت رکھتی تھی، چنانچہ اس نے بڑے پیار سے کہا

’’چکن سینڈوچز کا انتظام میرے ذمے رہا۔ ‘‘

اسی شام کو پانچ بجے لارنس باغ میں جمیل اور جمیلہ سینڈوچ بنے ہوئے تھے۔ جمیل نے اس پر اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا تو جمیلہ نے کہا۔

’’میں اس سے غافل نہیں تھی۔ پر کیا کروں، بیچ میں باجی حائل تھیں۔ ‘‘

’’تو اب کیا کیا جائے؟‘‘

’’ایسی ملاقاتیں زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکیں گی۔ ‘‘

’’یہ تو درست ہے۔ کل مجھے صرف اس ملاقات کی پاداش میں تمہاری باجی کے ساتھ یہاں آنا پڑے گا۔ ‘‘

’’اسی لیے تو میں سوچتی ہوں کہ اس کا کیا حل ہوسکتا ہے۔ ‘‘

’’تم حوصلہ رکھتی ہو؟‘‘

’’کیوں نہیں۔ آپ کیا چاہتے ہیں مجھ سے؟۔ میں ابھی آپ کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہوں۔ بتائیے، کہاں چلنا ہے؟‘‘

’’اتنی جلدی نہ کرو۔ مجھے سوچنے دو۔ ‘‘

’’آپ سوچ لیجیے۔ ‘‘

’’کل شام کو چار بجے تم کسی نہ کسی بہانے سے یہاں چلی آنا، میں تمہارا انتظار کررہا ہوں گا۔ اس کے بعد ہم راولپنڈی روانہ ہو جائیں گے۔ ‘‘

’دطوفن بھی ہو تو میں کل اس مقررہ وقت پر یہاں پہنچ جاؤں گی۔ ‘‘

’’اپنے ساتھ زیور وغیرہ مت لانا۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’میں تمہیں خود خرید کے دے سکتا ہوں۔ ‘‘

’’میں اپنے زیور نہیں چھوڑ سکتی۔ باجی نے مجھے اپنی ایک بالی بھی آج تک پہننے کے لیے نہیں دی۔ میں اپنے زیور اس کے لیے چھوڑ جاؤں؟‘‘

دوسرے دن شام کو سلمیٰ سینڈوچز تیار کرنے میں مصروف تھی کہ جمیلہ نے الماری میں سے اپنے زیور اور اچھے اچھے کپڑے نکالے، انھیں سوٹ کیس میں بند کیا اور باہر نکل گئی۔ کسی کو کانوں کان بھی خبر نہ ہوئی۔ سلمیٰ سینڈوچز تیار کرتی رہی اور جمیل اور جمیلہ دونوں ریل میں سوار تھے جو راولپنڈی کی طرف تیزی سے جارہی تھی۔ راولپنڈی پہنچ کر جمیل اپنے دوست سہیل کے پاس گیا جو اتفاق سے گھر میں اکیلا تھا۔ اس کے والدین ایبٹ آباد میں منتقل ہو گئے تھے۔ سہیل نے جب ایک برقعہ پوش عورت جمیل کے ساتھ دیکھی تو بڑا متحیر ہوا، مگر اس نے اپنے دوست سے کچھ نہ پوچھا۔ جمیل نے اس سے کہا

’’میرے ساتھ جمیلہ ہے۔ میں اسے اغوا کرکے تمہارے پاس لایا ہوں۔ ‘‘

سہیل نے پوچھا۔

’’اغوا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘

’’بڑا لمبا قصہ ہے۔ میں پھر کبھی سنادوں گا۔ ‘‘

پھر جمیل جمیلہ سے مخاطب ہوا۔

’’برقع اتار دو اور اس گھر کو اپنا گھر سمجھو۔ سہیل میرا عزیز ترین دوست ہے۔ ‘‘

جمیلہ نے برقع اتار دیا اور شرمیلی نگاہوں سے جن میں کسی اور جذبے کی بھی جھلک تھی، سہیل کی طرف دیکھا۔ سہیل کے ہونٹوں پر عجیب قسم کی مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ اپنے دوست سے مخاطب ہوا۔

’’اب تمہارا ارادہ کیا ہے‘‘

جمیل نے جواب دیا۔

’’شادی کرنے کا۔ لیکن فوراً نہیں۔ میں آج ہی واپس لاہور جانا چاہتا ہوں تاکہ وہاں کے حالات معلوم ہوسکیں۔ ہوسکتا ہے بہت گڑ بڑ ہو چکی ہو۔ میں اگر وہاں پہنچ گیا تو مجھ پر کسی کو شک نہیں ہو گا۔ دو تین روز وہاں رہوں گا۔ اس دوران میں تم ہماری شادی کا انتظام کردینا۔ ‘‘

سہیل نے ازراہ مذاق سے کہا۔

’’بڑے عقلمند ہوتے جارہے ہو تم۔ ‘‘

جمیل، جمیلہ کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔

’’یہ تمہاری صحبت ہی کا نتیجہ ہے۔ ‘‘

’’تم آج ہی چلے جاؤ گے؟‘‘

جمیل نے جواب دیا۔

’’ابھی۔ اسی وقت۔ مجھے صرف اپنے اس سرمایہ حیات کو تمہارے سپرد کرنا تھا۔ یہ میری امانت ہے۔ ‘‘

جمیل اپنی جمیلہ کو سہیل کے حوالے کرکے واپس لاہور آگیا۔ وہاں کافی گڑبڑ مچی ہوئی تھی۔ وہ سلمیٰ سے ملنے گیا۔ اس نے شکایت کی کہ وہ کہاں غائب ہو گیا تھا۔ جمیل نے اس سے جھوٹ بولا۔

’’مجھے سخت زکام ہو گیا تھا۔ افسوس ہے کہ میں تمہیں اس کی اطلاع نہ دے سکا، اس لیے کہ ہمارا ٹیلی فون خراب تھا اور نوکر کو امی جان نے کسی وجہ سے برطرف کردیا تھا۔ ‘‘

سلمیٰ جب مطمئن ہو گئی تو اس نے جمیل کو بتایا کہ اس کی بہن کہیں غائب ہو گئی ہے۔ بہت تلاش کی ہے مگر نہیں ملی۔ اپنے زیور کپڑے ساتھ لے گئی ہے۔ معلوم نہیں کس کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ جمیل نے بڑی ہمدردی کا اظہار کیا۔ سلمیٰ اس سے بڑی متاثر ہوئی اور اسے مزید یقین ہو گیا کہ جمیل اسے محبت کرتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ جمیل نے محض رواداری کی خاطر اپنی جیب سے رومال نکال کر اس کی نمناک آنکھیں پونچھیں اور مصنوعی محبت کا اظہار کیا۔ سلمیٰ اپنی بہن کی گمشدگی کا صدمہ کچھ دیر کے لیے بھول گئی۔ جب جمیل کو اطمینان ہو گیا کہ اس پر کسی کو بھی شبہ نہیں تووہ ٹیکسی میں راولپنڈی پہنچا۔ بڑا بیتاب تھا۔ لاہور میں اس نے تین دن کانٹوں پر گزارے تھے۔ ہر وقت اس کی آنکھوں کے سامنے جمیلہ کا حسین چہرہ رقص کرتا رہتا۔ دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ وہ جب اپنے دوست کے گھر پہنچا تو اس نے جمیلہ کو آواز دی۔ اس کو یقین تھا کہ اس کی آواز سنتے ہی وہ اڑتی ہوئی آئے گی اور اس کے سینے کے ساتھ چمٹ جائے گی۔ مگر اسے ناامیدی ہوئی۔ اس کا دوست اس کی آواز سن کر آیا۔ دونوں ایک دوسرے کے گلے ملے۔ جمیل نے تھوڑے توقف کے بعد پوچھا۔

’’جمیلہ کہاں ہے؟‘‘

سہیل نے کوئی جواب نہ دیا۔ جمیل بڑا مضطرب تھا۔ اس نے پھر پوچھا۔

’’یار۔ جمیلہ کو بلاؤ۔ ‘‘

سہیل نے بڑے رقت آمیز لہجے میں کہا۔

’’وہ تو اسی روز چلی گئی تھی۔ ‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘

’’جب تم یہاں اسے چھوڑ کر گئے تو وہ دو تین گھنٹوں کے غائب ہو گئی۔ اسے غالباً تم سے محبت نہیں تھی۔ ‘‘

جمیل پھر لاہور آیا۔ مگر سلمیٰ سے اسے معلوم ہوا کہ اس کی بہن ابھی تک غائب ہے، بہت ڈھونڈا مگر نہیں ملی۔ چنانچہ جمیل کو پھرراولپنڈی جانا پڑا تاکہ وہ اس کی تلاش وہاں کرے۔ وہ اپنے دوست کے گھر نہ گیا۔ اس نے سوچا کہ ہوٹل میں ٹھہرنا چاہیے۔ جہاں سے مطلوبہ معلومات حاصل ہونے کی توقع ہو سکتی ہے۔ جب اس نے راولپنڈی کے ایک ہوٹل میں کمرے کرائے پر لیا تو اس نے دیکھا کہ جمیلہ ساتھ والے کمرے میں سہیل کی آغوش میں ہے۔ وہ اسی وقت اپنے کمرے سے نکل آیا۔ لاہور پہنچا۔ جمیلہ کے زیورات اس کے پاس تھے، یہ اس نے بیمہ کراکر اپنے دوست کو بھیج دیے اور صرف چند الفاظ ایک کاغذ پر لکھ کر ساتھ رکھ دیے۔

’’میں تمہاری کامیابی پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ جمیلہ کو میرا سلام پہنچا دینا۔ ‘‘

دوسرے دن وہ سلمیٰ سے ملا۔ وہ اس کو جمیلہ سے کہیں زیادہ خوب صورت دکھائی دی۔ وہ اپنی بہن کی گمشدگی کے غم میں رو رہی تھی۔ جمیل نے اس کی آنکھیں چومیں اور کہا

’’یہ آنسو بیکار ضائع نہ کرو۔ انھیں ان اشخاص کے لیے محفوظ رکھو، جو ان کے مستحق ہیں۔ ‘‘

’’لیکن وہ میری بہن ہے۔ ‘‘

’’بہنیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ اسے بھول جاؤ۔ ‘‘

جمیل نے سلمیٰ سے شادی کرلی۔ دونوں بہت خوش تھے۔ گرمیوں میں مری گئے تو وہاں انھوں نے جمیلہ کو دیکھا جس کا حسن ماند پڑ گیا تھا اور نہایت واہیات قسم کا میک اپ کیے تھے، پنڈی پوائنٹ پر یوں چل پھر رہی تھی جیسے اسے کوئی سودا بیچنا ہے۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • چائے- پانی
  • مریم مختیار
  • ہنوذ دِلّی دُور است
  • حملہ ہوا تھا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کھردری گرد کی کھال
پچھلی پوسٹ
سو کینڈل پاور کا بلب

متعلقہ پوسٹس

دھیان بٹائے رکھنا ہے!

اگست 26, 2023

اس میں حسن ذرا کم ادا زیادہ

جون 3, 2020

محسن خالد محسنٓ کی نظموں میں مغربیت کا تصور

اپریل 29, 2026

رومانوی خیالات کی دنیا

اپریل 1, 2023

توبۃ النصوح – فصل نہم

اکتوبر 30, 2020

والدہ مرحومہ کی یاد میں

نومبر 14, 2025

سب کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں

مارچ 16, 2022

چائے چاہیے ؟؟

جولائی 25, 2022

محفلِ محبت کا مزہ

دسمبر 3, 2024

میرا نام رادھا ہے

جنوری 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

نجات

اکتوبر 29, 2019

گلینا

جون 3, 2020

کتنے پل صراط

جون 2, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں