374
ہر اک منظر بھگونا چاہتی ہے
اداسی خوب رونا چاہتی ہے
مجھے اک پل کی یکسوئی عطا ہو
غزل تخلیق ہونا چاہتی ہے
ان آنکھوں کی کہانی ہے بس اتنی
نظر آواز ہونا چاہتی ہے
تمہارے حسن کے حیرت کدے میں
مری بینائی کھونا چاہتی ہے
کسی کی یاد کی خاموش بارش
مرے سب زخم دھونا چاہتی ہے
وہی معصوم سی بچپن کی حسرت
بہلنے کو کھلونا چاہتی ہے
اداسی تھک چکی ہے روتے روتے
ذرا سی دیر سونا چاہتی ہے
عزیز نبیل
