377
بے گناہ ٹھہرا مگر تحویل میں رکھا گیا
مجھ کو برسوں درد کی زنبیل میں رکھا گیا
جب مرے کردار سے تم مطمعن ہوتے نہیں
کس لیے ہے پھر مجھے تمثیل میں رکھا گیا
چاک پر رکھ کر مجھے پرکھا گیا ہے دوستو
اک زمانے تک مجھے تکمیل میں رکھا گیا
ایک سینے سے نکل کر دوسرے میں گھر کرے
راز کیسا لفظ کی ترسیل میں رکھا گیا
علم کی خاطر مشقت جھیلنا اعزاز ہے
آشنائی کا ہنر تحصیل میں رکھا گیا
سَرکشی کی دوڑ سے باہر نکل کے دیکھنا
کس قدر انعام ہے تعمیل میں رکھا گیا
رات بھر جلتی ہے صابرؔ روشنی کی چاہ میں
کون ساجذبہ ہے اِس قندیل میں رکھا گیا
ایوب صابر
