481
مہک اٹھے گی ساری راہگزر آہستہ آہستہ
ہوا کرتا ہے خوشبو کا سفر آہستہ آہستہ
دئیے صرف ایک غم نے زندگی کو زاویئے کیا کیا
جلیں اک لو سے شمعیں کس قدر،آہستہ آہستہ
مرے حسنِنظر کا خود مجھے احساس تک کیوں ہو
جمالِ یار کر آنکھوں میں گھر،آہستہ آہستہ
شعاعیں خود ہی اپنا راستہ پہچان لیتی ہیں
اتر آتی ہے آنکھوں میں سحر آہستہ آہستہ
تری یادیں بھی اک اک کر کے رخصت ہوتی جاتی ہیں
بچھڑتے جا رہے ہیں ہم سفر آہستہ آہستہ
سعود عثمانی
