859
چھپائے دل میں غموں کا جہان بیٹھے ہیں
تمہاری بزم میں ہم بے زبان بیٹھے ہیں
یہ اور بات کہ منزل پہ ہم پہنچ نہ سکے
مگر یہ کم ہے کہ راہوں کو چھان بیٹھے ہیں
فغاں ہے درد ہے سوز فراق و داغ الم
ابھی تو گھر میں بہت مہربان بیٹھے ہیں
اب اور گردش تقدیر کیا ستائے گی
لٹا کے عشق میں نام و نشان بیٹھے ہیں
وہ ایک لفظ محبت ہی دل کا دشمن ہے
جسے شریعت احساس مان بیٹھے ہیں
ہے مہ کدوں کی بہاروں سے دوستی ساغر
ورائے حد یقین و گمان بیٹھے ہیں
ساغر صدیقی
