خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکیوں سے کہاں تک
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہطاہرہ فاطمہ

کیوں سے کہاں تک

از سائیٹ ایڈمن مئی 20, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 20, 2026 0 تبصرے 0 مناظر
1

کبھی کبھی قرآن کی چند آیات انسان کے اندر ایک پوری دنیا کھول دیتی ہیں۔ میرے لیے سورۃ البقرۃ کی آیات 155 سے 158 ایسی ہی آیات ہیں۔
اللہ تعالیٰ پہلے فرماتے ہیں:
وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ
خوف۔ بھوک۔ نقصانِ مال۔ نقصانِ جان۔ نقصانِ ثمرات۔
پھر اللہ صبر کرنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں:
أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ
اور اس کے فوراً بعد:
إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ
پہلی نظر میں یہ ربط عجیب لگتا ہے۔ صبر کی بات کے فوراً بعد صفا اور مروہ کیوں؟
لیکن آج مجھے محسوس ہوا کہ شاید اللہ صبر کی صرف تعریف نہیں کر رہے۔۔۔ وہ صبر کی ایک زندہ تصویر دکھا رہے ہیں۔ وہ تصویر حضرت حاجرہؑ ہیں۔ کیونکہ سورۃ البقرۃ کی ان آیات میں جن آزمائشوں کا ذکر ہے، حضرت ہاجرہؑ نے ان سب کو جیا تھا۔
خوف؟ ایک سنسان وادی میں تنہا چھوڑ دیا جانا۔
بھوک اور پیاس؟ اپنے شیرخوار بچے کو تڑپتے دیکھنا۔
نقصان؟ ہر لمحہ یہ اندیشہ کہ شاید اب زندگی باقی نہ رہے۔
لیکن یہاں ایک سوال حیرت انگیز ہے کہ حضرت ہاجرہؑ نے حضرت ابراہیمؑ سے "کیوں” نہیں پوچھا؟
ذرا تصور کریں: آپ کا شوہر آپ کو اور آپ کے بچے کو ایک بے آب و گیاہ صحرا میں چھوڑ کر واپس جا رہا ہے۔ وہ پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھتا۔ آپ آواز دیتی ہیں۔ وہ خاموش رہتا ہے۔
پھر آپؑ صرف ایک سوال پوچھتی ہیں: "کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟”
اور جب جواب "ہاں” میں ملتا ہے، تو آپؑ کہتی ہیں: "پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔”
میں سوچتی ہوں۔۔۔ حضرت حاجرہؑ نے "کیوں” کیوں نہیں پوچھا؟
کیوں میں؟ کیوں یہ صحرا؟ کیوں یہ تنہائی؟ کیا اللہ مجھ سے ناراض ہے؟ کیا میں سزا کی مستحق ہوں؟
یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت ہاجرہؑ ہم سے مختلف ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ آج کا انسان سب سے پہلے یہی پوچھتا ہے: "میرے ساتھ ہی کیوں؟”
نوکری چلی جائے: میرے ساتھ ہی کیوں؟
رشتہ ٹوٹ جائے: میرے ساتھ ہی کیوں؟
بیماری آ جائے: میرے ساتھ ہی کیوں؟
دعائیں دیر سے قبول ہوں: میرے ساتھ ہی کیوں؟
ایسا لگتا ہے جیسے ہماری پوری نسل "میرے ساتھ ہی کیوں؟” کے گرد گھوم رہی ہے۔
ہم نے درد کو بیان کرنا سیکھ لیا ہے۔ اپنی ٹوٹن کو لفظوں میں ڈھال لیا ہے۔ اپنی تکلیف کو شاعری، تحریروں، نعروں اور آگاہی میں بدل لیا ہے۔ لیکن شاید ہم نے ایک چیز کھو دی ہے: صبر۔ کیونکہ صبر خاموشی کا نام نہیں۔ صبر سوال بدل جانے کا نام ہے۔
حضرت ہاجرہؑ نے "کیوں” نہیں پوچھا۔ انہوں نے ایک اور سوال پوچھا:
"کہاں ہے؟”
پانی کہاں ہے؟
رحمت کہاں ہے؟
اللہ کی مدد کہاں سے آئے گی؟
اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں مظلوم اور متلاشی الگ ہو جاتے ہیں۔
"میرے ساتھ ہی کیوں؟” بند دروازے کے سامنے بیٹھ کر رونے کا نام ہے۔ "کہاں ہے؟” دروازہ تلاش کرنے کا نام ہے۔
"میرے ساتھ ہی کیوں؟” ماضی سے چمٹ جانا ہے۔ "کہاں ہے؟” مستقبل کی طرف بھاگنا ہے۔
"میرے ساتھ ہی کیوں؟” انسان کو بےبس بنا دیتا ہے۔ "کہاں ہے؟” انسان کو اللہ کی طرف حرکت میں لے آتا ہے۔
حضرت ہاجرہؑ مظلوم بن کر نہیں بیٹھیں۔ وہ متلاشی بنیں۔ اور اسی لیے اللہ نے ان کی دوڑ کو قیامت تک عبادت بنا دیا۔
یہاں ایک اور حیرت انگیز بات ہے۔ اللہ فرماتے ہیں:
إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ
یہاں کسی نبی کا نام نہیں۔ کسی رسول کا ذکر نہیں۔ کسی مرد کا حوالہ نہیں۔ یہاں صرف ایک عورت ہے۔ ایک ماں۔ جو بھاگی۔
حضرت حاجرہؑ نے کوئی کتاب نہیں لکھی۔ کوئی لشکر کی قیادت نہیں کی۔ کوئی خطبہ نہیں دیا۔ کوئی ظاہری معجزہ نہیں دکھایا۔ وہ صرف صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتی رہیں۔ اور اللہ نے اس دوڑ کو اپنی نشانی بنا دیا۔ قیامت تک۔ حج اور عمرے کا حصہ بنا دیا۔ یہ سوچ کر دل کانپ جاتا ہے کہ دنیا کی نظر میں شاید وہ ایک بےقرار عورت تھیں۔۔۔ لیکن اللہ کی نظر میں وہ "شعائر اللہ” بن گئیں۔
او اس میں ہم سب کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں انسان کی قدر اس کی شہرت سے ناپی جاتی ہے۔ کتنے لوگ جانتے ہیں؟ کتنی تعریف ملتی ہے؟ کتنی پہچان حاصل ہوتی ہے؟ لیکن حضرت ہاجرہؑ کی کہانی سکھاتی ہے کہ اللہ کے نزدیک اخلاص، شہرت سے زیادہ قیمتی ہے۔ وہ جدوجہد جو کسی انسان نے نہ دیکھی ہو۔۔۔ اللہ اسے بھی امر کر سکتا ہے۔
اور میرے لیے سب سے حیرت انگیز لمحہ ساتواں چکر ہے۔ چھ مرتبہ دوڑنے کے بعد بھی کچھ نہیں بدلا تھا۔ افق وہی خالی تھا۔ آسمان وہی خاموش تھا۔ بچہ اب بھی پیاسا تھا۔ عقل کہتی تھی: "بس کرو۔”
لیکن وہ ساتویں بار بھی بھاگیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں منطق ختم ہو جاتی ہے اور توکل شروع ہوتا ہے۔ جہاں امید صرف ایک احساس نہیں رہتی۔۔۔ بلکہ عبادت بن جاتی ہے۔ ساتواں چکر وہ ہوتا ہے جب: کوئی نشانی نہیں ہوتی، کوئی تسلی نہیں ہوتی، کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی، اور پھر بھی انسان اللہ کی طرف حرکت جاری رکھتا ہے۔ کیونکہ اب اسے سمجھ آ جاتا ہے: میرا کام بھاگنا ہے۔ نتیجہ اللہ کا کام ہے۔
اور پھر سب سے حیرت انگیز بات ہوئی۔ زمزم حضرت ہاجرہؑ کی دوڑ سے نہیں نکلا۔ زمزم حضرت اسماعیلؑ کی ایڑیوں سے نکلا۔
گویا اللہ یہ سکھا رہے تھے: تم صفا اور مروہ مکمل کرو۔ زمزم کہاں سے نکالنا ہے، یہ میرا کام ہے۔
اور ہماری زندگی بھی ایسی ہی ہے۔ کبھی ہماری سعی کا نتیجہ ہماری زندگی میں نہیں۔۔۔ ہماری نسلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ کبھی ہماری قربانی سے ہمارے بچوں کو زمزم ملتا ہے۔ کبھی ہماری دعا سے آنے والوں کی تقدیر بدلتی ہے۔ اور تب انسان سمجھتا ہے: کوئی مخلصانہ دوڑ کبھی ضائع نہیں جاتی۔
یہی وہ سبق ہے جو حج کا موسم ہمیں ہر سال یاد دلاتا ہے۔ سپردگی یہ نہیں کہ انسان ہر چیز سمجھ لے۔ سپردگی یہ ہے کہ انسان صحرا میں بھی اللہ پر بدگمان نہ ہو۔
اور قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں۔ کبھی قربانی اپنی بےصبری کی ہوتی ہے۔ کبھی اپنے خوف کی۔ کبھی اپنے "میرے ساتھ ہی کیوں؟” کی۔
اور ایمان یہی ہے: صفا اور مروہ کے درمیان بھاگتے رہنا۔۔۔ یہ یقین رکھتے ہوئے کہ زمزم ابھی نظروں سے اوجھل ہے، غائب نہیں۔

طاہرہ فاطمہ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نومی
  • مدھر ملن کی شبھ گھڑی
  • شفیق جانا شفیق پایا
  • طوفان کے بیچ سفرِ شجاعت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
قربتِ لمس کو گالی نہ بنا
پچھلی پوسٹ
عارفین

متعلقہ پوسٹس

غزل گائیکی کی 110 سال کی ہوشربا داستان

نومبر 6, 2017

لگ کے بیٹھا تھا ایک کونے سے

مارچ 22, 2026

موازنہ انیس و دبیر

اپریل 13, 2025

شجرِ ثمر بار، فرہاد احمد فگار

جولائی 31, 2022

وقت کو پر لگے ہوئے ہیں !

مئی 30, 2020

کہیں ہم نافرمانوں میں تو نہیں !

دسمبر 2, 2020

بجلی کے بلوں میں ریلیف

جولائی 24, 2024

کافی

دسمبر 7, 2019

عورت گھوڑا اور مرد

جنوری 8, 2022

والد – جنت کا دروازہ

جون 29, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بسم اللہ ۔۔۔اللہ اکبر

دسمبر 16, 2019

نہ سہی گر شبِ وصال نہیں

دسمبر 12, 2025

مسز ڈی سلوا

جنوری 17, 2015
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں