خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاماپنی ذات کے ویران راستے
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

اپنی ذات کے ویران راستے

از سائیٹ ایڈمن جنوری 18, 2026
از سائیٹ ایڈمن جنوری 18, 2026 0 تبصرے 33 مناظر
34

ہم ایک عجیب معاشرے میں زندہ ہیں جہاں انسان سب کچھ کرتا ہے مگر اپنے لیے نہیں۔ کوئی خاندان کے دباؤ میں جیتا ہے، کوئی رسموں کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے، کوئی لوگوں کی توقعات پوری کرتے کرتے تھک جاتا ہے۔ عمر گزرتی رہتی ہے مگر شخصیت وہیں کی وہیں رہتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سوال جنم لیتا ہے کہ آخر زندگی میں سب سے بڑی سرمایہ کاری کون سی ہے۔

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ پیسہ، کاروبار، جائیداد یا تعلقات اصل سرمایہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب چیزیں ثانوی ہیں۔ اصل سرمایہ وہ صلاحیت، سوچ اور کردار ہے جو انسان اپنی ذات میں پروان چڑھاتا ہے۔ اگر انسان اندر سے مضبوط نہ ہو تو باہر کی کامیابیاں محض شور بن کر رہ جاتی ہیں۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے لیے جینے کو قربانی سمجھتے ہیں اور اپنی اصلاح کو خود غرضی کا نام دے دیتے ہیں۔ بچپن سے ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ پہلے والدین، پھر خاندان، پھر معاشرہ، اور آخر میں کہیں جا کر انسان خود آتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بیشتر لوگ اپنی خواہشات، صلاحیتوں اور خوابوں کو دفن کر کے زندگی گزار دیتے ہیں۔ وہ ہنستے مسکراتے نظر آتے ہیں مگر اندر سے خالی ہوتے ہیں۔

زندگی کی اصل تبدیلی اس لمحے شروع ہوتی ہے جب انسان پہلی بار اپنے اندر جھانکنے کی ہمت کرتا ہے۔ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ یہ اعتراف کہ ہم ہر بات میں درست نہیں، ہر فیصلے میں عقل مند نہیں اور ہر رویے میں مثالی نہیں، انسان کو توڑ دیتا ہے۔ مگر یہی ٹوٹ پھوٹ آگے چل کر تعمیر کا ذریعہ بنتی ہے۔ حضرت علیؓ کا یہ قول کہ اپنے نفس پر قابو پانا سب سے بڑی جیت ہے، دراصل اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اصل معرکہ میدانوں میں نہیں بلکہ انسان کے اندر برپا ہوتا ہے۔

تعلیم گاہوں میں اکثر ایسے طلبہ ملتے ہیں جو اپنی ناکامیوں کا الزام اساتذہ، نصاب یا حالات پر ڈال دیتے ہیں۔ اس کے برعکس جو طالب علم اپنی کوتاہی کو پہچان لیتا ہے، وہی آگے بڑھتا ہے۔ یہی اصول زندگی کے ہر شعبے میں لاگو ہوتا ہے۔ جو فرد اپنی غلطیوں کا سامنا نہیں کرتا، وہ ساری عمر دوسروں کی کامیابیوں سے جلتا رہتا ہے اور اندر ہی اندر شکست کھاتا رہتا ہے۔

اندرونی اصلاح کا دوسرا مرحلہ عادات کی تشکیل ہے۔ انسان کی زندگی بڑے فیصلوں سے نہیں بلکہ روزمرہ کے معمولات سے بنتی ہے۔ وقت کی پابندی، مطالعہ، جسمانی صحت کا خیال اور نظم و ضبط وہ عناصر ہیں جو خاموشی سے انسان کو بدل دیتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم فوری نتائج کے اسیر ہیں۔ ہمیں ایک ہفتے میں تبدیلی چاہیے، ایک مہینے میں کامیابی اور ایک سال میں کمال۔ حالانکہ فطرت آہستہ مگر مستقل چلنے والوں کو نوازتی ہے۔

روزانہ معمولی بہتری کا تصور بظاہر غیر متاثر کن لگتا ہے، مگر یہی مسلسل پیش رفت وقت کے ساتھ انسان کو وہاں پہنچا دیتی ہے جہاں اکثریت صرف خواب دیکھتی ہے۔ کامیاب افراد کسی خاص دن پیدا نہیں ہوتے بلکہ وہ ہر دن خود کو بہتر بنانے کی خاموش کوشش کرتے ہیں۔

علم کا معاملہ بھی اسی فہم کا متقاضی ہے۔ آج کے دور میں معلومات کی کمی نہیں بلکہ سمت کی کمی ہے۔ ہر چیز موبائل کی اسکرین پر موجود ہے مگر سیکھنے کا شوق ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ نوجوان گھنٹوں اسکرولنگ میں گزار دیتے ہیں مگر اپنی مہارت بڑھانے کے لیے چند منٹ نکالنا دشوار سمجھتے ہیں۔ جو نسل ہنر، زبان اور عملی تجربے سے خود کو آراستہ کر لیتی ہے، وہی وقت کی دوڑ میں آگے نکلتی ہے۔

ناکامی کا خوف بھی انسان کو آگے بڑھنے سے روکتا ہے۔ ہم اس معاشرے میں پلتے ہیں جہاں گرنے والے پر ہاتھ رکھنے کے بجائے انگلی اٹھائی جاتی ہے۔ اسی لیے لوگ کوشش سے گھبراتے ہیں۔ حالانکہ ناکامی انسان کو ختم نہیں کرتی بلکہ نکھارتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی یہ تعلیم کہ مصیبت میں صبر ایمان کا حصہ ہے، ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مشکلات ایمان اور کردار کی جانچ ہوتی ہیں۔ جو شخص صبر کے ساتھ حالات کا سامنا کرتا ہے، وہ وقت کے ساتھ مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔

دنیاوی کامیابی اگر اخلاق سے خالی ہو تو وہ کھوکھلی ہوتی ہے۔ کردار کے بغیر حاصل ہونے والی ترقی وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے مگر دل کا سکون نہیں دے سکتی۔ عبادات، شکرگزاری، دیانت اور عدل انسان کی شخصیت کو وزن دیتے ہیں۔ ایک تاجر اگر ایمانداری اختیار کرے تو شاید فوری منافع کم ہو، مگر طویل مدت میں اعتماد، عزت اور سکون اس کا مقدر بنتے ہیں۔

زندگی میں سب سے مؤثر عمل احتساب ہے۔ دن کے اختتام پر چند لمحے نکال کر اپنے اعمال پر غور کرنا انسان کو آئینہ دکھاتا ہے۔ کہاں جذبات غالب آ گئے، کہاں فیصلے کمزور رہے اور کہاں بہتری کی گنجائش ہے۔ جو شخص یہ عادت اپنا لیتا ہے، وہ آہستہ آہستہ سنورنے لگتا ہے۔

حرف آخر
شخصیت کی تعمیر کوئی مختصر منصوبہ نہیں بلکہ عمر بھر کا سفر ہے۔ اس سفر میں تھکن بھی ہے، تنہائی بھی اور آزمائش بھی۔ مگر جو شخص اس راستے پر ثابت قدم رہتا ہے، وہ صرف کامیاب نہیں بلکہ مطمئن بھی ہوتا ہے۔ اور اصل کامیابی شاید یہی ہے کہ انسان شام کو سر رکھے تو دل مطمئن ہو کہ اس نے زندگی صرف گزاری نہیں بلکہ سمجھی بھی ہے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پوچھنا ہے مجھے پتہ میرا
  • کیوں پوچھتے ہو کِس کا زمانا ہے
  • گیارہویں شریف کا مبارک مہینہ
  • مدافعت کا آخری راستہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
تفسیری مناہج
پچھلی پوسٹ
کم عمر ذہن اور ڈیجیٹل یلغار

متعلقہ پوسٹس

فیض صاحب کے دو اشعار (آنجناب کی فرمائش پر )

اگست 20, 2020

دیوالی

فروری 5, 2022

” قلم کتاب “ دنیا کی ایک تاریخ ساز کتاب

جولائی 23, 2022

دیکھ پائے تو کرے کوئی پذیرائی بھی

فروری 15, 2026

مرد کی آمریت

ستمبر 20, 2020

ملاقاتی

جنوری 13, 2020

فطرت کے دامن میں خاموش جذبات

نومبر 24, 2024

یہ کچھ یادوں کے آنسو ہیں دِل پگھلانے والے!

نومبر 18, 2021

ہمارے آس پاس دیکھ

دسمبر 8, 2025

میں جب احساس کے شہر میں پہنچا تو

مئی 9, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پاکستان : مذہب اور سیاست کا...

فروری 6, 2026

لیڈی ڈیانا ،بے نظیر اور حامد...

اپریل 23, 2014

زندگی رکتی تو نہیں

فروری 2, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں