خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامسعادت حسن منٹو
آپ کا سلاماردو تحاریرتحقیق و تنقیدڈاکٹر الیاس عاجز

سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 9, 2026
از سائیٹ ایڈمن جنوری 9, 2026 0 تبصرے 38 مناظر
39

سعادت حسن منٹو: حقیقت کا آئینہ اور ادبی جرات

سعادت حسن منٹو بلا شبہ اردو ادب کے سب سے حقیقت پسند اور جرات مند ادیبوں میں سے ایک ہیں۔​منٹو کا شمار اردو ادب کے ان ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے حقیقت نگاری کو محض ایک اسلوب نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ بنا دیا۔ ان کی عظمت صرف مغربی رجحانات کو متعارف کرانے میں نہیں، بلکہ اس میں ہے کہ انہوں نے سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کی وہ جرات دکھائی جو ان کے ہم عصروں میں کم ہی نظر آتی تھی۔ منٹو کا قلم ایک ایسا آئینہ تھا جس نے معاشرے کے خوبصورت چہرے کے پیچھے چھپی منافقت، کراہت اور انسانیت کی گراوٹ کو بے نقاب کیا۔

منافقت پر کاری ضرب: منٹو جسمانیت اور جنسی جذبات کا اعتراف

​کلاسیکی اردو ادب کی شاید یہ مجبوری تھی کہ ادبیبوں کا ایک بڑا گروہ محبوب کے تصور کو دیوتا بنا کر پیش کرتا رہا جہاں جسمانی کشش کو روحانی محبت کے پردے میں چھپا دیا جاتا تھا۔منٹو نے اس منافقت کو چیلنج کیا اور انسان کے بنیادی جنسی اور جذباتی میلانات کو ان کی اصل شکل میں پیش کیا۔ذیل میں دیا گیا ایک​اقتباس دیکھیے:

​”وہ عورت تھی، عورت صرف عورت نہیں، بل کہ ایک مکمل عورت تھی۔ اس کے سینے کا اُبھار، اس کے کولھوں کی گولائی، اس کی ہر ادا میں مرد کو اپنی طرف کھینچنے کی وہ کشش تھی جس کے لیے کوئی لغت میں لفظ نہیں ملتا۔”

​منٹو کے کردار، چاہے وہ ‘ٹوبہ ٹیک سنگھ’ کا بشن سنگھ ہو یا ‘کھول دو’ کی سکینہ، یا بازار میں بکنے والی طوائفیں، وہ سب جیتے جاگتے، سانس لیتے اور جسمانی تقاضے رکھنے والے انسان تھے۔ انہوں نے جسمانی حقیقت کو چھپانے کے بجائے اسے ادب کا لازمی جزو بنایا۔

​منٹو کی سب سے بڑی خدمت ان کے وہ افسانے ہیں جو 1947 کی تقسیم ہند کے خوفناک واقعات پر لکھے گئے۔ جہاں اکثر ادیبوں نے حب الوطنی یا مذہبی جذبات کو اجاگر کیا، وہیں منٹو نے خون، ہوس اور جنون سے لت پت انسانیت کا ایسا نقشہ کھینچا جو آج بھی دل دہلا دیتا ہے۔”سیاہ حاشیے” سےایک ​اقتباس دیکھیے:

​”لاٹھی پر خون تھا، لکڑی کے تختے پر خون تھا، یہاں تک کہ ہوا میں بھی خون تھا۔ وہ سب انسان نہیں تھے، حیوان بن چکے تھے۔ تقسیم سے پہلے کی نفرت، غصے میں بدل گئی تھی۔”

​’کھول دو’ میں جب باپ اپنی گمشدہ بیٹی کو تلاش کرتا ہے اور اسے پتا چلتا ہے کہ درندوں نے اسے کس حال تک پہنچا دیا، تو یہ صرف ایک کہانی نہیں رہتی بلکہ عصمت ریزی کے بعد خاموش ہوجانے والے معاشرے پر ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔

​’ٹوبہ ٹیک سنگھ’ میں بشن سنگھ کا سرحدوں کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر چیخنا دراصل اس احمقانہ تقسیم پر منٹو کا احتجاج ہے جس نے انسانوں کے دماغوں کو بھی تقسیم کر دیا۔

حاشیے کے کرداروں کو مرکز میں لانا بھی ​منٹو کا ایک اور اہم کارنامہ ہے جو انہوں نے ان کرداروں کو اردو ادب میں مرکزی حیثیت دی جنہیں معاشرہ گھناؤنا سمجھ کر نظر انداز کر دیتا تھا۔ان کے ہیرو اور ہیروئنیں طوائفیں، دلال، جیب کترے، اور جسم فروش ہوتی تھیں۔ان کرداروں کے ذریعے منٹو نے یہ پیغام دیا کہ گناہوں کے پیچھے اکثر غربت، مجبوری اور حالات کی ستم ظریفی کار فرما ہوتی ہے۔ایک افسانے کا ​اقتباس دیکھیے:

​”اس کو اپنے کام سے گھن نہیں آتی تھی… کیوں کہ وہ سمجھتی تھی کہ یہ کام اس کے اپنے اندرونی سچ کا اظہار ہے۔ اگر باہر سچ بولنے کی اجازت نہیں تو جسم کے ذریعے ہی سہی۔”

​منٹو نے یہ دکھایا کہ ایک طوائف کے دل میں بھی ممتا، محبت اور انسانی احساسات اتنی ہی شدت سے موجود ہوتے ہیں جتنے کسی شریف زادی میں۔ وہ منافقت کے پردے چاک کرکے غلاظت میں لپٹی ہوئی سچائی کو باہر لے آئے۔

​ منٹو کے نزدیک ادب کا مقصد خوشنما پردے نہیں بلکہ آئینہ سازی ہے جس میں معاشرے کو اس کا چہرہ دکھایا جا سکے۔​

بقول ڈاکٹر الیاس عاجزؔ:

کب تلک کام لبادے سے چلے گا اپنا

ایک دن پالا حقیقت سے پڑے گا اپنا

منٹو کا ادبی فلسفہ بہت واضح تھا۔ادب کو معاشرتی اصلاح کا پرچارک یا اخلاقی درس دینے والا نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا کام ہے ‘جو کچھ ہو رہا ہے’ اسے دکھانا اور ​ان کا یہ بیانیہ انہیں اردو ادب کے تمام رجعت پسندوں اور ‘اچھے ادب’ کی دہائی دینے والوں سے ممتاز کرتا ہے۔منٹو کو اپنی زندگی میں فحاشی کے الزامات پر کئی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان مقدمات نے ان کے عزم کو مزید مضبوط کیا کہ وہ اس سچ کو پیش کرتے رہیں گے جو ہمارے معاشرے کی تہہ میں چھپا ہوا ہے۔

​منٹو کی تحریریں دراصل ہمارے اجتماعی ضمیر کا احتساب ہیں۔ وہ ایک ایسے ادیب تھے جنہوں نے ادب کو بزدلانہ خوبصورتی سے نکال کر سچائی کی کرختگی سے روشناس کرایا۔ ان کا بیانیہ آج بھی اردو ادب کی حقیقت نگاری کا سب سے بڑا ستون ہے۔

ڈاکٹر الیاس عاجزؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے
  • غریب کی چائے
  • حُسن اور بغاوت
  • شی مین
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
حقیقی حفاظت
پچھلی پوسٹ
ایہہ ہمسائے، ایہہ ماں جائے

متعلقہ پوسٹس

مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

مارچ 8, 2026

نئے دیوتا

جون 14, 2020

دو سیاح

جنوری 11, 2020

ہٹلر کی جمہوریت اور ریپستان‎‎

جنوری 30, 2022

پوئنا

دسمبر 10, 2024

سب سے بہترین گفتگو

جولائی 15, 2020

سلگتے بجھتے جزیروں پہ نخل جڑتی ہے

مارچ 2, 2026

عید قرباں:عزت ِ مجبور کو قربان تو نہ کیجیے!

جولائی 31, 2020

کسی کو ڈھونڈتے پھرنا محبت

فروری 14, 2026

ساڑھے تین آنے

اکتوبر 22, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آخری جلسہ

نومبر 28, 2019

اس میں حسن ذرا کم ادا...

جون 3, 2020

یک طرفہ محبت

جنوری 5, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں