106
پوچھتے کیا ہو مرے تم دل دیوانے سے
عشق کے رمز کو پوچھو کسی فرزانے سے
جی نکل جاوے گا ظالم مرا اب جانے سے
یاں نہ آنا ہی بھلا تھا ترے اس آنے سے
روز کے دکھ سے چھٹا رات کے جلنے سے رہا
دوستی شمع نے کی دوستو پروانے سے
دل بجا لاوے گا جو کچھ اسے کیجے ارشاد
یہ تو باہر نہیں کچھ آپ کے فرمانے سے
یوں یکایک جو ہوئے اس کے جگر کے ٹکڑے
نہیں معلوم کہا زلف نے کیا شانے سے
ضبط لازم ہے جب ہی تک کہ نہ ہو آنکھ میں اشک
اب تو بھر آیا ہے دل اشک کے بھر آنے سے
رو لے دل کھول کے تو اس گھڑی آصفؔ اپنا
نہیں گھٹ جاوے گا دم اشک کے پی جانے سے
آصف الدولہ
