105
وہ جس نے خود کو ہارا ہے محبت میں
وہی انسان جیتا ہے محبت میں
گھڑی بھر کی خوشی پھر زندگی بھر دکھ
سوا اس کے ہوا کیا ہے محبت میں
ترے ہونے سے ہی میں خوبصورت ہوں
سنا ہے حسن کھلتا ہے محبت میں
شکستہ دل شب غم درد رسوائی
ارے اتنا تو چلتا ہے محبت میں
یہ دل جس شخص کو مرہم سمجھتا ہے
اسی سے زخم ملتا ہے محبت میں
جنونی بے تحاشہ بے پنہ خالص
ہمارا یہ تقاضا ہے محبت میں
مجھے اپنی کمی محسوس ہوتی ہے
یہ دل جب سے لگایا ہے محبت میں
مرے دل میں فقط اس کو اجازت ہے
جسے مرنا گوارہ ہے محبت میں
وہ نفرت میں کسی کا بھی نہیں رہتا
جو ہو سکتا ہمارا ہے محبت میں
حقیقت چاہے کچھ بھی ہو محبت کی
سبھی نے دیکھا سپناؔ ہے محبت میں
سپنا مولچندانی
