108
کہاں کسی نے ہمارے عذاب دیکھے ہیں
جہاں نے صرف خوشی کے ہی باب دیکھے ہیں
کھلی جو آنکھ تو دیکھے سراب پھیلے ہوئے
لگا ہے جیسے محبت کے خواب دیکھے ہیں
کبھی تو شوق نے صحرا کی خاک چھنوائی
کہیں پہ عشق نے بہتے چناب دیکھے ہیں
ہماری نسل کھلائے گی گل نجانے کیا
ہماری پود نے جھوٹے نصاب دیکھے ہیں
تمہاری آنکھوں کا نعم البدل کہاں ممکن
نشیلے نین تو بس لاجواب دیکھے ہیں
ہمارے خواب کی تعبیر میں لکھا تھا یہی
ملے ہیں خار، اگرچہ گلاب دیکھے ہیں
یہ زندگی ہے مظفرؔ، غموں کا غم کیسا
خوشی کے لمحے بھی تو بے حساب دیکھے ہیں
مظفرؔ ڈھاڈری
