494
اداس شاموں بجھے دریچوں میں لوٹ آیا
بچھڑ کے اس سے میں اپنی گلیوں میں لوٹ آیا
چمکتی سڑکوں پہ کوئی میرا نہیں تھا سو میں
ملول پیڑوں اجاڑ رستوں میں لوٹ آیا
خزاں کے آغاز میں یہ اچھا ہوا کہ میں بھی
خود اپنے جیسے فسردہ لوگوں میں لوٹ آیا
حسین یادوں کے چاند کو الوداع کہہ کر
میں اپنے گھر کے اندھیرے کمروں میں لوٹ آیا
میں کھل کے رویا نہیں تھا پچھلے کئی برس سے
حسنؔ وہ سیلاب پھر سے آنکھوں میں لوٹ آیا
حسن عباسی
