خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسیاسی جماعتوں کی رسہ کشی
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

سیاسی جماعتوں کی رسہ کشی

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 28, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 28, 2025 0 تبصرے 37 مناظر
38

سیاسی جماعتوں کی رسہ کشی: عوام کا نقصان

پاکستان کی سیاست میں اکثر یہ منظر دیکھنے کو ملتا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتیں اقتدار کے حصول کی دوڑ میں اس قدر مصروف ہو جاتی ہیں کہ عوام کے مسائل پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں۔ ہر روز میڈیا اور سوشل میڈیا پر سیاسی رہنما ایک دوسرے پر تنقید اور الزام تراشی کرتے ہیں، اپنی برتری کے دعوے کرتے ہیں اور مخالف جماعتوں کو نیچا دکھانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ لیکن اصل نقصان وہ لوگ اٹھاتے ہیں جو اپنے گھروں کا چولہا جلانے، بچوں کی تعلیم کے انتظامات کرنے اور روزگار کے مواقع تلاش کرنے میں دن رات محنت کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ منظر ایک عام شہری کے لیے نہایت پریشان کن اور مایوس کن ہوتا ہے، کیونکہ وہ محسوس کرتا ہے کہ سیاست دان صرف طاقت کے کھیل میں مگن ہیں، عوامی بھلائی کسی کی ترجیح نہیں۔

سیاسی رسہ کشی کے اثرات عام آدمی کی روزمرہ زندگی پر براہِ راست مرتب ہوتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی، گیس اور پانی کی قلت، اور بنیادی سہولیات کی ناقص فراہمی اس کے معمولاتِ زندگی کو مزید دشوار بنا دیتی ہیں۔ جب حکومتیں اور سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف رہتی ہیں، تو ترقیاتی منصوبے رک جاتے ہیں، پالیسیاں ملتوی ہو جاتی ہیں اور عوامی مشکلات بدستور برقرار رہتی ہیں۔ شہری ہر روز اپنے بنیادی مسائل سے نبرد آزما رہتے ہیں، اور ایسے میں وہ حکومت اور سیاسی نظام سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم، صحت کی سہولیات، روزگار کے مواقع اور زندگی کی دیگر بنیادی ضروریات کی کمی ان کے ذہنی سکون کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔

مزید براں، معاشی طور پر بھی سیاسی رسہ کشی کا نقصان نہایت گہرا ہے۔ غیر یقینی سیاسی حالات کی وجہ سے سرمایہ کار سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں کاروبار سست روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد اپنی محنت کے مطابق منافع حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ جب سرمایہ کاری رک جاتی ہے تو نہ صرف ترقی کی رفتار کم ہو جاتی ہے بلکہ روزگار کے مواقع بھی محدود ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً نوجوان نسل بے روزگاری کا شکار ہو جاتی ہے اور معیشت کی رفتار مزید سست پڑ جاتی ہے، جس سے ملک کے مجموعی سماجی و اقتصادی حالات متاثر ہوتے ہیں۔

سماجی سطح پر بھی سیاسی کشمکش کے اثرات نمایاں اور تشویشناک ہیں۔ لوگ اپنی روزمرہ مشکلات میں الجھے ہوئے سیاسی تنازعات سے اکتا جاتے ہیں اور ان کے دلوں میں مایوسی جنم لینے لگتی ہے۔ یہ مایوسی سماجی ہم آہنگی کو کمزور کرتی ہے۔ فرقہ وارانہ، علاقائی اور طبقاتی منافرت میں اضافہ ہوتا ہے اور معاشرتی تانے بانے میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں یہ احساس جڑ پکڑ لیتا ہے کہ سیاست صرف ذاتی یا جماعتی مفادات کے لیے کی جاتی ہے، عوامی خدمت اس کا مقصد نہیں۔ اس طرزِ سیاست کے نتیجے میں لوگ نہ صرف سیاسی عمل سے لاتعلق ہو جاتے ہیں بلکہ قومی یکجہتی بھی متاثر ہوتی ہے۔

سیاسی رسہ کشی کی جڑیں کئی عوامل میں پیوست ہیں۔ سب سے بڑی وجہ اقتدار کی ہوس اور ذاتی رنجشیں ہیں۔ اکثر اوقات سیاسی جماعتوں کے درمیان غیر ضروری مقابلہ بازی اور طاقت کی سیاست عوامی مفاد پر حاوی ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، میڈیا پر غلط معلومات، افواہوں اور پروپیگنڈے کا پھیلاؤ بھی عوامی سوچ اور سیاسی ماحول کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔ اگر یہ رسہ کشی اسی طرح جاری رہی تو عوام کی زندگی مزید مشکلات میں گھر جائے گی، کاروبار متاثر ہوں گے، روزگار کے مواقع کم ہوں گے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی مزید دشوار ہو جائے گی۔

تاہم، اس صورتحال کا حل ناممکن نہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ اختلافات کو بات چیت، مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔ شفاف انتخابات، قانون کی بالادستی اور عوامی فلاح کو ترجیح دینے سے سیاسی کشمکش کے اثرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ اگر جماعتیں ذاتی خواہشات اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ دیں تو ملک میں امن، ترقی اور استحکام ممکن ہے اور عوام کا سیاسی نظام پر اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔

سیاسی رسہ کشی کے خاتمے کے لیے عوام کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے۔ شہریوں کو لازم ہے کہ وہ صرف پارٹی پسندیدگی یا ذاتی وابستگی کی بنیاد پر فیصلے نہ کریں بلکہ سیاسی جماعتوں کی کارکردگی، دیانت داری اور عوامی خدمت کے معیار پر غور کریں۔ عوامی شعور میں اضافہ اور تعلیم کا فروغ ہی وہ عناصر ہیں جو سیاسی ماحول کو مثبت رخ دے سکتے ہیں۔ جب عوام اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں گے تو وہ سیاسی جماعتوں پر دباؤ ڈال سکیں گے کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی خدمت کو ترجیح دیں۔

میری ذاتی رائے ہے کہ سیاسی رسہ کشی کا سب سے بڑا نقصان عام آدمی کو ہوتا ہے۔ اگر سیاست دان اپنی ذات اور جماعتی مفادات سے اوپر اٹھ کر عوام کی فلاح کو اولین ترجیح بنائیں تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ عوامی بھلائی، ایماندار سیاست اور شفاف حکمرانی ہی وہ راستے ہیں جو پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور خوشحال بنا سکتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی رسہ کشی کو پسِ پشت ڈال کر عوامی مسائل کے حل کے لیے متحد ہوں، کیونکہ جب عوام مضبوط ہوں گے، تب ہی ملک حقیقی معنوں میں ترقی کی منازل طے کر سکے گا۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نوجوان اور ورچوئل دنیا کی گرفت
  • وہ عزم مجھکو نہایت چٹان دے کے گیا
  • اعداد و شمار کا پاکستان
  • نگاہوں سے ترے دل میں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ٹیکنالوجی کا زمانہ اور ہمارا جمود
پچھلی پوسٹ
سٹیٹ بینک : شرحِ سود

متعلقہ پوسٹس

گواہی

جنوری 2, 2022

پاکستان کے تعلیمی مسائل

جولائی 23, 2024

فلسطینی بچوں کی آواز

اگست 1, 2025

چراغ ساعت رفتہ سرنگ میں گم ہے

نومبر 27, 2021

نجات

اکتوبر 29, 2019

سمینٹ میں دفن آدمی

مئی 27, 2023

صورتِ آبِ رواں ہوتا ہے

جون 12, 2020

درد دل کی دوا نہیں کرتے

اکتوبر 16, 2025

ٹھنڈا گوشت

اکتوبر 25, 2019

کمار سانو

فروری 2, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ڈیم ہے یہ حمام نہیں

ستمبر 3, 2025

ایک گھریلو سا خراج ِ عقیدت

اکتوبر 27, 2020

گواہی

جنوری 2, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں