442
میں اپنے حصے کی تنہائی محفل سے نکالوں گا
جو لا حاصل ضروری ہے تو حاصل سے نکالوں گا
مرے خوں سے زیادہ تو مری مٹی میں شامل ہے
تجھے دل سے نکالوں گا تو کس دل سے نکالوں گا
مجھے معلوم ہے اک چور دروازہ عقب میں ہے
مگر اس بار میں رستہ مقابل سے نکالوں گا
شبیہوں کی طرح قبریں مجھے آواز دیتی ہیں
میں عکس رفتگاں آئینہ گل سے نکالوں گا
ہجوم سہل انگاراں مرے ہم راہ چلتا ہے
میں جیسے راہ آساں راہ مشکل سے نکالوں گا
بھرم سب کھول کے رکھ دوں گا مصنوعی محبت کے
کوئی تازہ فسانہ دشت و محمل سے نکالوں گا
تمہیں اب تیرنا خود سیکھ لینا چاہیے شاہدؔ
تمہیں کب تک میں گرداب مسایل سے نکالوں گا
