395
آنکھوں میں مری پہلی سی بینائی نہیں ہے
یا تیرے خدوخال میں رعنائی نہیں ہے
جس دن سے وہ تصویر ہٹائی ہے وہاں سے
دیوار سے پہلی سی شناسائی نہیں ہے
میں کیسے چھپاؤں تری خیرات کا دکھ بھی
اے دوست مرے کاسے میں گہرائی نہیں ہے
وہ لوگ جنہیں سچ سے اذیت نہیں ہوتی
وہ شہر جہاں آئنہ پیمائی نہیں ہے
تم کس کو دکھاؤ گے تماشا مرا اسعد
ہنسنےکے لیے کوئی تماشائی نہیں ہے
