100
وہ کسی اور سے ملا ہوگا
دل یہ کہتا ہے واہمہ ہوگا
میرے دل میں دھمال پڑتی ہے
لوگ شک میں کہ عارضہ ہوگا
اس کی یارو خبر ہی لے آؤ
کوئی درپیش مسئلہ ہوگا
پاؤں ٹکتا نہیں زمیں پر کیوں
غور سے دیکھ آبلہ ہوگا
خامشی کو جواب مت سمجھو
عین ممکن نہ کچھ سنا ہوگا
تم جسے کائنات کہتے ہو
یار پانی کا بلبلہ ہوگا
اب خدا کو ہے فیصلہ کرنا
وہ ترا ہوگا یا مرا ہوگا
جاؤ دنیا میں کچھ نہیں کہتا
روز محشر ہی سامنا ہوگا
خامشی کو زبان کہتے ہیں
ایک دن اس کا ترجمہ ہوگا
کچھ فرشتے ہیں سامنے میرے
اب تو ہر حال معرکہ ہوگا
تم جسے عشق جان بیٹھے ہو
ان کا ممکن ہے مشغلہ ہوگا
لوح محفوظ پر جو لکھا ہے
اس سے ہٹ کر بھی فیصلہ ہوگا
سوچ لو دیکھ بھال لو دانشؔ
عشق ہوگا تو رتجگا ہوگا
دانش عزیز
