خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباخشک آنکھیں اور خالی ہاتھ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

خشک آنکھیں اور خالی ہاتھ

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 18, 2025
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 18, 2025 0 تبصرے 71 مناظر
72

سیلاب کے بعد خشک آنکھیں اور خالی ہاتھ

سیلاب اپنی وحشت کے ساتھ آیا، بستیاں بہا لے گیا، فصلیں ڈبو گئی، مویشی مر گئے، اور زندگی کا وہ نظام جو سالوں کی محنت سے تعمیر ہوا تھا، ایک لمحے میں ملیامیٹ ہو گیا۔ پانی آیا اور چلا گیا، لیکن پیچھے جو کچھ چھوڑ گیا وہ صرف مٹی کے ڈھیر نہیں ہیں بلکہ خشک آنکھیں اور خالی ہاتھ ہیں۔ یہ خشک آنکھیں صرف آنسوؤں کے ختم ہونے کی علامت نہیں بلکہ وہ بے بسی ہیں جو الفاظ سے بیان نہیں کی جا سکتیں۔ یہ خالی ہاتھ صرف روٹی کے ٹکڑے کے لیے پھیلتے نہیں بلکہ زندگی کی بحالی کے سوال کے لیے پھیلتے ہیں۔
سیلاب کے بعد گاؤں کے گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ جہاں کل بچوں کی ہنسی گونجتی تھی، وہاں آج خاموشی کا راج ہے۔ کھیت جہاں سبز فصلیں جھومتی تھیں، وہاں صرف کیچڑ اور بربادی کی تصویر رہ گئی ہے۔ مویشی، جو دیہات کے لیے معاشی ریڑھ کی ہڈی ہیں، یا تو بہ گئے ہیں یا بیماریوں کا شکار ہو کر دم توڑ گئے ہیں۔ گھروں کی دیواریں گر گئی ہیں، چھتیں زمین بوس ہو گئی ہیں اور لوگوں کے سروں پر صرف کھلا آسمان ہے۔

سیلاب کے فوراً بعد متاثرین کو سب سے پہلا چیلنج بھوک اور پیاس کا سامنا ہے۔ صاف پانی نایاب ہو گیا ہے اور آلودہ پانی پینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں وبائی بیماریاں جنم لیتے ہیں۔ ہیضہ، ملیریا اور جلدی بیماریاں متاثرین کے جسموں کو کھا رہی ہیں۔ دوا کہاں سے آئے؟ ڈاکٹر کہاں سے ملے؟ اسپتال کہاں قائم ہوں؟ یہ وہ سوال ہیں جو ہر متاثرہ فرد کے ذہن میں بار بار ابھرتے ہیں لیکن جواب کہیں سے نہیں ملتا۔

تعلیم کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا ہے۔ اسکول یا تو پانی میں بہ گئے ہیں یا عارضی کیمپوں میں پناہ گزینوں کے ٹھکانے بن گئے ہیں۔ بچے جو کتابوں میں مستقبل ڈھونڈتے تھے، اب خیموں میں مٹی کے کھلونوں سے کھیل رہے ہیں۔۔
حکومتِ پنجاب نے سیلاب متاثرین کے لیے اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق غیر معمولی اقدامات کیے ہیں اور اپنی حیثیت سے بڑھ کر مدد فراہم کی ہے۔ اس نے نہ صرف فوری ریلیف کی فراہمی کو یقینی بنایا بلکہ متاثرین کی بحالی کے لیے بھی منصوبہ بندی میں جلدی اور شفافیت کا مظاہرہ کیا۔ ایسے موقع پر جب ہر انسان کو مشکل حالات کا سامنا ہوتا ہے، حکومت نے ثابت کیا کہ مشکل فیصلے کرنے اور وسائل کو بروقت تقسیم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس دوران سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر انسانی ہمدردی اور عملی اقدامات کو ترجیح دی گئی۔ اسی حوالے سے یہ بات قابل ذکر ہے کہ مریم نواز نے سیلاب کے نام پر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا، بلکہ اپنے وسائل اور تنظیمی استعداد سے متاثرین کی مدد کی۔ اگر کوئی اور ہوتا، جیسے عمران خان، تو ممکن ہے کہ وہ اس بحران کو عالمی سطح پر سیاسی موقف یا امداد کی طلب کا ذریعہ بناتا، لیکن حکومتِ پنجاب نے عملی اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا۔

یہ واضح ہے کہ اس کی پوری کوششوں کے باوجود یہ بحران بہت بڑا ہے اور صرف سرکاری اقدامات سے مکمل بحالی ممکن نہیں ہے۔ سیلاب کے اثرات اتنے وسیع اور شدید ہیں کہ متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ قائم ہونے میں مہینوں اور سالوں کا وقت درکار ہے۔ لہٰذا، تمام شہری، خیراتی ادارے اور مقامی کمیونٹی کے افراد کو بھی آگے آ کر متاثرین کی بحالی میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ محض امدادی سرگرمی نہیں، بلکہ انسانی زندگیوں کو سنوارنے اور مستقبل کی بنیاد رکھنے کا موقع ہے۔ اس زخم کا اثر شاید عرصہ دراز تک محسوس ہوگا، لیکن اجتماعی کوششوں اور عملی مدد سے اس درد کو کم کیا جا سکتا ہے اور متاثرین کی زندگیوں کو نئے سرے سے بحال کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کی سنجیدگی اور عوامی شراکت کے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا، اور یہی واحد راستہ ہے جو متاثرین کو مستقل سہارا دے سکتا ہے۔

سیلابی حالات میں کئی مخیر حضرات اور فلاحی ادارے آگے بڑھ رہے ہیں، لیکن سماجی سطح پر ہمارا رویہ اکثر صرف وقتی ہمدردی تک محدود ہے۔ ہم کیمروں کے سامنے راشن کے پیکٹ بانٹتے ہیں، تصاویر سوشل میڈیا پر ڈالتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فرض ادا ہو گیا۔ لیکن کیا کسی نے سوچا ہے کہ متاثرہ خاندان کو چند کلو آٹا دینے سے اس کی زندگی بحال ہو سکتی ہے؟ ان کے خالی ہاتھ صرف ایک وقت کی روٹی نہیں مانگ رہے بلکہ روزگار، مکان اور مستقبل کے طلبگار بھی ہیں۔

سیلاب کے بعد کے حالات صرف جسمانی اور معاشی مسائل تک محدود نہیں ہیں بلکہ ذہنی اور نفسیاتی اثرات بھی گہرے ہیں۔ وہ کسان جو اپنی زمین کو اپنی عزت سمجھتا ہے، جب دیکھتا ہے کہ اس کی زمین پر مٹی اور پتھروں کے سوا کچھ باقی نہیں رہا، تو اس کی آنکھوں میں وہ خواب بھی مر گئے ہیں جو اس نے بچوں کی تعلیم اور شادی کے لیے دیکھے تھے۔ بچے رات کو ڈر کر جاگ رہے ہیں کہ کہیں پانی دوبارہ نہ آ جائے۔ عورتیں اپنی اجڑی ہوئی دنیا کو دیکھ کر چپ سادھ رہی ہیں۔ یہ خاموشی بھی ایک چیخ ہے جو ہمیں سنائی نہیں دیتی۔

سیلاب گزر جانے کے بعد اصل چیلنج بحالی کا ہے۔ یہ بحالی مہینوں اور سالوں پر محیط ہے۔ متاثرین کو گھروں کی تعمیر کے لیے پیسہ چاہیے، زمین کی بحالی کے لیے بیج اور کھاد چاہیے، مویشیوں کے لیے امداد چاہیے۔ ہمارے ہاں بحالی کے منصوبے اکثر کاغذوں میں دفن ہو جاتے ہیں۔ عالمی ادارے کچھ امداد کرتے ہیں لیکن وہ بھی عارضی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ متاثرین یا تو شہروں کا رخ کر کے کچی آبادیوں میں رہائش اختیار کر لیتے ہیں یا اپنی برباد زمینوں پر ایک نئے سیلاب کے انتظار میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ہر سال سیلاب آتا ہے، ہر سال بربادی ہوتی ہے، ہر سال آنکھیں خشک اور ہاتھ خالی رہ جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم کب سیکھیں گے؟ ڈیمز اور واٹر مینجمنٹ کے منصوبے کب مکمل ہوں گے؟ نکاسیٔ آب کا نظام کب بہتر بنایا جائے گا؟ متاثرین کی مستقل آباد کاری کب ممکن ہو گی؟ یا ہم ہمیشہ اسی تماش بین قوم کی طرح صرف آفات کے بعد تصویریں دیکھ کر آہیں بھرتے رہیں گے؟

سیلاب کے بعد جو منظر باقی رہتا ہے وہ صرف پانی کے جانے کی کہانی نہیں بلکہ ایک پوری نسل کے خوابوں کے بہنے کی داستان ہے۔ جب پانی اتر جاتا ہے تو زمین پر مٹی اور ملبہ رہ جاتا ہے، لیکن دلوں میں جو خالی پن پیدا ہوتا ہے وہ کبھی نہیں جاتا۔ آنکھیں خشک ہو جاتی ہیں کیونکہ آنسو ختم ہو چکے ہیں، اور ہاتھ خالی رہ جاتے ہیں کیونکہ زندگی دوبارہ شروع کرنے کے لیے کچھ باقی نہیں رہتا۔

یہ کالم محض الفاظ نہیں، بلکہ ان لاکھوں متاثرین کی چیخ ہے جو سیلاب کے بعد بھی انصاف اور بحالی کے منتظر ہیں۔ ان کے خشک آنکھوں اور خالی ہاتھوں کو دیکھ کر اگر ہم اب بھی نہ جاگے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سفر نامہ بھارت – چوتھی قسط
  • دل پہ تالہ نہ کوئی اور
  • رستہ بدل گیا تھا وہ
  • اور شیر آ گیا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
الجھن کا حل نہیں مل رہا
پچھلی پوسٹ
ڈاکٹر محمد دین تاثیر اور اُردو زبان

متعلقہ پوسٹس

کوئی شام مجھ میں سمٹ گئی

مئی 28, 2020

توبۃ النصوح – فصل ہفتم

اکتوبر 30, 2020

عجب باتیں کھٹکتی ہیں

جولائی 6, 2021

عرصئہ دہر کی جُھلسی ہوئی ویرانی میں

اپریل 21, 2017

نغمهٔ شکست

مئی 30, 2025

اپریل فول اور اس کی حقیقت

اپریل 1, 2020

عشق کی مسافتیں

فروری 2, 2020

دو مناظر

جنوری 29, 2020

رکھیں گے دل کے قریں تم کو

نومبر 16, 2025

کیا یہ ہی وہ پاکستان ہے

جون 1, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سیب، طاقت اور قوت کا خزانہ

اکتوبر 10, 2021

تیراہ،عارضی قربانی اور مستقل امن

جنوری 15, 2026

ہوا کے دوش پہ بادل بنا...

اکتوبر 7, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں