خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااشرافیہ کی ضد، اُردو زبان کی قربانی
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

اشرافیہ کی ضد، اُردو زبان کی قربانی

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 8, 2025
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 8, 2025 0 تبصرے 69 مناظر
70

8 ستمبر 2015ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک ایسا تاریخی فیصلہ دیا جسے عوام کے لیے اُمید کی کِرن سمجھا گیا۔ عدالت نے واضح حکم دیا کہ آئین کے آرٹیکل 251 کے تحت قومی زبان اُردو کو بطور دفتری زبان نافذ کیا جائے اور تین ماہ کے اندر تمام قوانین اور سرکاری دستاویزات کو اُردو میں منتقل کرنے کا انتظام کیا جائے۔ یہ فیصلہ محض کاغذ پر نہیں رہا بلکہ اُس وقت چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے خود یہ فیصلہ اُردو میں پڑھ کر سنایا تاکہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ قومی زبان کو عملاً اپنانا اب ناگزیر ہے۔ لیکن افسوس کہ ایک دہائی بیت گئی، حکومتیں بدلتی رہیں، وعدے اور اعلانات ہوتے رہے مگر اُردو کو آج تک دفتری زبان کا درجہ نہیں دیا جا سکا۔

یہ سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ آخر وہ کون سی طاقت ہے جو اُردو کے راستے میں دیوار بن کر کھڑی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس زبان کی سب سے بڑی دشمن وہ اشرافیہ ہے جو انگریزی کو اپنی طاقت اور امتیاز کا ہتھیار بنائے بیٹھی ہے۔ انگریزی فائلوں، قوانین اور پالیسیوں کے ذریعے عوام اور ریاست کے درمیان ایک ایسی زبان کی رکاوٹ کھڑی کر دی گئی ہے جس نے عام آدمی کو اپنے ہی ملک میں اجنبی بنا دیا ہے۔ ایک کسان یا مزدور جب عدالت یا کسی سرکاری دفتر میں جاتا ہے تو اُسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ انگریزی میں لکھی ہوئی تحریروں میں اُس کے بارے میں کیا لکھا ہے۔ انصاف کا دروازہ کھلا ہوتا ہے مگر زبان کی کُنجی اُس کے ہاتھ میں نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام محرومی اور بے بسی کے اندھیروں میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اس حوالے سے نہایت واضح مؤقف رکھتے تھے۔ اُنھوں نے 24 مارچ 1948ء کو ڈھاکہ میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ:
"اُردو پاکستان کی قومی زبان ہوگی اور صرف یہی ہماری قومی زبان ہو سکتی ہے۔ جو لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں وہ تنگ نظری کا شکار ہیں۔”

قائداعظم نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ اُردو ہی وہ زبان ہے جو پورے پاکستان کو ایک لڑی میں پرو سکتی ہے۔ لیکن آج دیکھ لیجیے کہ ہم نے اپنے ہی رہنما کی نصیحت کو پسِ پشت ڈال دیا اور ایک اجنبی زبان کو اپنے سروں پر مسلط کر کے رکھا ہوا ہے۔

اُردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ہماری شناخت ہے۔ اس کی وُسعت اور دائرہ اتنا بڑا ہے کہ دنیا کے کروڑوں لوگ اُسے سمجھتے اور بولتے ہیں۔ اُردو شاعری میں گہرائی ہے، نثر میں دلکشی ہے، مذہبی اور فلسفیانہ مباحث میں یہ زبان اپنی مثال آپ ہے۔ اس میں اتنی گنجائش ہے کہ سائنسی علوم اور جدید ٹیکنالوجی کے تصورات بھی منتقل کیے جا سکیں۔ اگر ہماری یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے اپنی تخلیقات اُردو میں شائع کریں تو علم و آگاہی کا دائرہ ہر گھر تک پہنچ سکتا ہے۔

لیکن یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں ہماری اشرافیہ اُردو کو نافذ نہیں ہونے دیتی؟ وجہ بالکل صاف ہے۔ انگریزی نے حکمران طبقے کو عوام سے ممتاز بنا دیا ہے۔ یہ طبقہ جان بوجھ کر زبان کی وہ دیوار برقرار رکھنا چاہتا ہے جو اُنھیں عام لوگوں سے الگ کر کے ایک خاص مرتبہ عطا کرتی ہے۔ سرکاری ملازمتیں ہوں یا عدالت کے فیصلے، ہر جگہ انگریزی کے ذریعے یہ نظام محدود طبقے تک قید رہتا ہے۔ غریب عوام تو بھوک، مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں پہلے ہی پسے ہوئے ہیں، اور زبان کی رکاوٹ نے اُنھیں ریاستی نظام سے مزید باہر کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں بالکل درست کہا تھا کہ قانون ایسی زبان میں ہونا چاہیے جسے عوام سمجھ سکیں۔ لیکن آج بھی حکومت کے اشتہارات، تعلیمی پالیسیاں اور عدالتوں کے فیصلے انگریزی میں آتے ہیں۔ گویا سپریم کورٹ کے حکم کو نظر انداز کر کے اشرافیہ نے اپنے مفادات کی حفاظت کی اور عوام کو محروم رکھا۔ یہ رویہ دراصل انصاف اور مساوات کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

اُردو کو دفتری زبان کے طور پر نافذ کرنے سے عوامی شمولیت بڑھے گی۔ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنی زبان میں ریاست سے مکالمہ کرے۔ عدالتوں کے فیصلے اگر اُردو میں آئیں تو انصاف کی فراہمی واقعی ممکن ہوگی۔ تعلیمی نظام میں اُردو کو بنیاد بنایا جائے تو علم زیادہ تیزی سے عام ہوگا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اُردو پورے ملک کے لیے یکجہتی کا ذریعہ ہے، وہ زبان جو کراچی سے خیبر اور بلوچستان سے کشمیر تک ہر دل میں جگہ رکھتی ہے۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ترقی یافتہ قومیں اپنی زبانوں کے ذریعے ہی آگے بڑھی ہیں۔ جرمنی نے جرمن میں، جاپان نے جاپانی میں، چین نے چینی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو آگے بڑھایا۔ ہم کیوں اپنی قومی زبان کے ساتھ یہ ناانصافی کر رہے ہیں کہ اُسے صرف تقریروں اور شعروں تک محدود کر رکھا ہے؟ اگر ہم نے اب بھی اپنی زبان کو وہ مقام نہ دیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

اُردو کو سرکاری سطح پر نافذ کرنا محض ایک لسانی مطالبہ نہیں بلکہ یہ انصاف، مساوات اور عوامی حق کی جنگ ہے۔ 8 ستمبر 2015ء کا سپریم کورٹ کا فیصلہ ہمارے سامنے ہے مگر حکومتیں اس پر عمل درآمد سے انکار کر رہی ہیں۔ قائداعظم کا خواب ابھی ادھورا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم انگریزی کی غلامی سے نکلیں اور اپنی زبان کو فخر کے ساتھ اپنائیں۔ یہی عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے کو ختم کرنے کا واحد راستہ ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اُردو صرف کتابوں میں رہ جائے گی اور عوام اپنی ہی ریاست میں بیگانہ محسوس کرتے رہیں گے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اردو زبان و ادب کی ترقی
  • تجھ سے مَیں ہونے والی محبّت
  • تم بھی آؤ نا درختوں کی گھنی چھاؤں میں
  • خوشی مستقل ہے نہ غم
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
قومی حکمت عملی کی کمی
پچھلی پوسٹ
نیشنل کونسل فار طب کا اقدام

متعلقہ پوسٹس

یونہی تنہا تنہا نہ خاک اُڑا

ستمبر 27, 2025

جائیے! جی جائیے، ہم کو رلاتے جائیے

جنوری 14, 2021

کافی

دسمبر 7, 2019

باغ سے جھولے اتر گئے

مئی 11, 2020

ہجوم۔ عاشقاں اب تک لب۔ دریا سلامت ہے

مئی 18, 2020

آنکھیں

فروری 13, 2022

ذہن و دل میں بیٹھ کر

جون 6, 2020

آنے والے دور کی پیشن گوئیاں

فروری 17, 2026

انٹرنیٹ کی سست رفتار

اگست 31, 2024

زندگی کی فلاسفی

جنوری 5, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

توکل کیا ھے؟

نومبر 5, 2025

لہو کی لہر میں

مئی 28, 2024

مسلح افواج کے سربراہ

مئی 10, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں