خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباڈوبتا پاکستان 
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزایم اے دوشی

ڈوبتا پاکستان 

از سائیٹ ایڈمن اگست 31, 2025
از سائیٹ ایڈمن اگست 31, 2025 0 تبصرے 74 مناظر
75

کبھی کبھار انسان اپنی زندگی کو اس قدر عیش و عشرت میں ڈبو لیتا ہے کہ اسے یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ اس کے اردگرد کون سی آفت بسی ہوئی ہے۔ وقت کی دوڑ، ذاتی مصروفیات اور کاروباری الجھنیں اسے اس طرح جکڑ لیتی ہیں کہ وہ اپنی ہی دائرۂ حیات میں محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسے یہ خبر تک نہیں رہتی کہ اس کا پڑوسی کس حال میں ہے، اس کا دوست کس کرب سے گزر رہا ہے اور اس کا حلقۂ احباب کن مسائل میں الجھا ہوا ہے۔ کچھ لوگ زندگی کی رنگینیوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے یہ تک بھول جاتے ہیں کہ ان کے گرد و نواح کے افراد بھی مشکلات میں سانس لے رہے ہیں۔ یوں ایک ایسا حصار وجود میں آتا ہے جس کے اندر تو روشنی ہے لیکن باہر اندھیروں کی لپٹیں ہیں۔

انسان جب رونقوں میں مگن رہتا ہے تو رفتہ رفتہ یہ بھولنے لگتا ہے کہ اس کے اردگرد کے لوگ کس اذیت میں ہیں۔ اگر وہ کسی ایسے پوش علاقے کا رہائشی ہے جہاں قریبی ہمسائے خوشحال دکھائی دیتے ہیں، تو یہ منظر اس کے ذہن پر ایک دھوکہ طاری کر دیتا ہے۔ اسے لگتا ہے گویا معاشرے میں ہر طرف آسودگی ہے، جیسے بھوک اور افلاس اب زمین سے رخصت ہو چکے ہوں۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سماج کے دوسرے گوشوں میں آج بھی غربت، بے روزگاری اور بھوک اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ وہاں لوگ ایک نوالے کو ترستے ہیں اور خوشحالی کا سایہ بھی میسر نہیں۔

پاکستان میں حالیہ بارشوں نے ایسی تباہی مچائی ہے جو ملک کی تاریخ میں شاذ و نادر ہی دیکھی گئی ہو۔ جس سمت بھی نظر دوڑائیں، پانی بستیاں بہا لے گیا، کھیت اجاڑ گیا اور زندگیاں نگل گیا۔ یہ قدرتی آفت اپنے پیچھے صرف مٹی اور ملبہ نہیں چھوڑ گئی بلکہ ہمارے معاشرتی ڈھانچے کی کمزوری بھی بے نقاب کر گئی۔ ہم چونکہ اکثریت میں مسلمان ہیں، اس لیے ہر افتاد کو محض اللہ کی مشیت کہہ کر ٹال دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سانحہ ہمارے اپنے نظام کی کوتاہیوں کا آئینہ دار ہے۔ حکمران طبقے کی نااہلی، ناقص منصوبہ بندی اور بے حسی نے عوام کو مزید اذیت میں دھکیل دیا ہے۔ لوگ برسوں سے ٹیکس اور ووٹ دیتے ہیں، مگر بدلے میں صرف وعدے اور تقریریں پاتے ہیں۔ یہ بارشیں زمین پر گرتے ہی ایک سوالیہ نشان بن گئیں: آخر کب تک ہم اپنے ہی سیاسی سیٹ اپ کی نالائقیوں کا خمیازہ بھگتتے رہیں گے؟

اگر حالیہ بارشوں اور سیلابوں کو تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو یہ سب سے بڑی تباہ کاریوں میں شمار ہوں گے۔ لاہور کی مثال لیں تو پارک ویو سٹی ایک ایسا شاہکار ہے جو بظاہر دولت اور ترقی کا مظہر ہے، مگر اپنی جگہ غیر قانونی تجاوزات اور بے اصولیوں کی علامت بھی ہے۔ یہ سوسائٹی ندی نالے اور پانی کے قدرتی راستوں پر تعمیر کی گئی۔ 2008 میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایک سو پانچ ہاؤسنگ سوسائٹیاں غیر قانونی ہیں، لیکن اس کے باوجود نہ کوئی عملی اقدام ہوا نہ کوئی پالیسی بنی۔ آج محتاط اندازے کے مطابق پورے ملک میں پانچ ہزار سے زائد غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں موجود ہیں، جن میں سے بیشتر پانی کے قدرتی راستوں پر تعمیر کی گئیں۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے بارشوں کے پانی کو راستہ نہ دیا اور بستیاں ڈوب گئیں، زندگیاں اجڑ گئیں۔

قرآن و حدیث کے آئینے میں بھی یہ حقیقت بالکل واضح ہے۔ اسلام نے حکم دیا ہے کہ کسی کا راستہ روکا نہیں جا سکتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مسلمانوں کے لیے پانی، آگ اور چراگاہ مشترکہ ہیں۔” ایک اور روایت میں ہے کہ اگر ندی کے کنارے بھی وضو کر رہے ہو تو پانی ضائع نہ کرو۔ شریعت نے راستوں کے حقوق کی ادائیگی پر زور دیا ہے، مگر ہمارے ہاں انہی گزرگاہوں پر سوسائٹیاں تعمیر کر دی گئیں۔ یوں ریاست نے نہ صرف قانونی بلکہ شرعی احکام کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پارک ویو سٹی اور اس جیسی دیگر کئی سوسائٹیوں کے باعث ہزاروں لوگ متاثر ہوئے۔ سینکڑوں کو ہجرت کرنا پڑی، گھروں کی چھتیں ڈوب گئیں۔ یہ سانحہ صرف تعمیرات کا نہیں بلکہ انسانی ضمیر کی شکست کا بھی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں؟ اسباب اور مسائل سب واضح ہیں، لیکن اصلاح تبھی ممکن ہے جب ریاست غیر قانونی سوسائٹیوں کے خلاف سخت اور عملی اقدام کرے۔ قانون سازی کو محض کاغذوں سے نکال کر عمل میں لانا ہوگا۔ عوام کو بھی اپنی زمین اور ماحول کے حقوق پہچاننے ہوں گے۔ ترقی کا مطلب صرف بلند و بالا عمارتیں نہیں بلکہ فطرت کے راستوں کو بچانا بھی ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ محض امدادی اعلانات کے بجائے نکاسیٔ آب کے نظام کو بہتر بنائیں، ندی نالوں کو دوبارہ زندہ کریں اور تعمیرات کو قانون و شریعت کے مطابق پرکھیں۔

فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے: کیا ہم آنے والی نسلوں کے لیے زمین اور فطرت کو محفوظ بنائیں گے یا اپنی غفلت کے باعث ان کے مستقبل کو بھی ڈبو دیں گے؟ یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم اپنے ماضی سے سبق سیکھ کر مستقبل کو محفوظ بنائیں یا پھر آنے والی نسلوں کے لیے تباہی ہی ورثے میں چھوڑ جائیں۔

ایم اے دوشی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کانفیڈینس
  • ایہام گوئی کی تحریک
  • حق مہر کتنا ہوگا، بتایا نہیں گیا
  • حوصلہ ہے نڈھال مفلس کا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پنجاب اُجڑ گیا
پچھلی پوسٹ
منٹو – ادبی قصے

متعلقہ پوسٹس

اس شور سخن میں ابھی خاموش رہوں گا

نومبر 27, 2021

جو مل نہیں سکا

اپریل 23, 2022

گزرے لمحات کا احساس ہوا جاتا ہے

مئی 2, 2020

وطن کی مٹی گواہ رہنا

اکتوبر 9, 2025

آنکھوں کے راز اور خول

مارچ 24, 2026

جوان رات کی مستی میں ناچنے والا

نومبر 30, 2021

پچاس چھ لفظی کہانیاں

دسمبر 23, 2021

مرتبان

دسمبر 23, 2021

مکاں کے ہوتے ہوئے بھی جو لامکاں کوئی ہے

مئی 15, 2020

یہاں پڑاؤ بہت دیر تک رہا غم کا

مارچ 4, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

قرآن مجید میں تقویٰ

فروری 25, 2026

تجھے حلال ہے مجھ پر

اکتوبر 7, 2025

آہ ! اے دوست

جنوری 3, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں