113
وقت کی قید میں زندگی اوڑھ کر
لوگ زندہ ہیں لیکن خوشی چھوڑ کر
روٹھنے مان جانے میں بھی لطف ہے
گر تعلق رکھیں دائمی جوڑ کر
بند آنکھوں نے آواز دی نیند کو
خواب آنے لگے چٹخنی توڑ کر
دل کے مندر میں ہم نے سجایا جسے
اجنبی بن گیا مونہہ وہی موڑ کر
چند خوابوں کی پاداش میں زندگی
مجھ پہ ہنستی ہے آنکھیں مِری پھوڑ کر
منزّہ سیّد
