475
حال نہیں کچھ کھلتا میرا کون ہوں کیا ہوں کیسا ہوں
مست ہوں یا ہشیار میں ہوں ناداں ہوں یا دانا ہوں
کان سے سب کی سنتا ہوں اور منہ سے کچھ نہیں کہتا ہوں
ہوش بھی ہے بیہوش بھی ہوں کچھ جاگتا ہوں کچھ سوتا ہوں
کیسا رنج اور کیسی راحت کس کی شادی کس کا غم
یہ بھی نہیں معلوم مجھے میں جیتا ہوں یا مرتا ہوں
کارِ دیں کچھ بن نہیں آتا دعویٰ ہے دیں داری کا
دنیا سے بیزار ہوں لیکن رکھتا خواہش دنیا ہوں
یار ہو میرے دل میں اور میں کعبے میں بُت خانے میں
گھر میں وہ موجود ہے اور میں گھر گھر ڈھونڈتا پھرتا ہوں
کچھ نہیں نہیں اور سب کچھ ہوں گر دیکھو چشم حقیقت سے
میں ہوں ظفرؔ مسجود ملائک گرچہ خاک کا پُتلا ہوں
